انوارالعلوم (جلد 11) — Page 133
انوار العلوم جلد) ١٣٣ فضائل القرآن (۲) ہے۔ اور ذکر الہی ہی مذہب کی جان ہے۔ لیکن دوسری کتب اس سے عاری ہیں اور ادھر اُدھر کی باتوں میں وقت کو ضائع کرتی ہیں بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ ان میں بندوں کے قصے کہانیاں زیادہ ہیں اور اللہ کا ذکر کم ہے۔ ساتویں خوبی قرآن کریم کی یہ ہے کہ وہ سخت کلامی سے مبرا سخت کلامی سے مبرا کتاب ہے اور یہ بھی حسن کلام کی ایک قسم ہے۔ کوئی نہیں جو جو یہ کہہ سکے کہ اس میں گالیاں ہیں۔ پھر نہ صرف قرآن سخت کلامی سے مبرا ہے بلکہ نہایت لطیف ய اور دلنشیں پیرایہ میں یہ نصیحت کرتا ہے کہ وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۳۵ یعنی تم ان معبودان باطلہ کو گالیاں مت دو جن کی وہ اللہ تعالی کے سوا پرستش کرتے ہیں۔ اور اگر تم ان کو گالیاں دو گے تو وہ اللہ کو گالیاں دیں گے بغیر یہ سمجھنے کے کہ اللہ تو سب کا ہے۔ پھر فرماتا ہے كَذَلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ۳۶ اسی طرح ہم نے ہر ایک قوم کے لئے اس کے عمل خوبصورت کر کے دکھائے ہیں۔ یعنی یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ ان لوگوں کے معبود جھوٹے ہیں اس لئے انہیں برا بھلا کہنے میں کیا حرج ہے۔ یہ لوگ اب شرک کے عادی ہو چکے ہیں اور آہستہ آہستہ اپنے اس بُرے کام کو بھی اچھا سمجھنے لگ گئے ہیں اس لئے اگر تم انہیں گالیاں دو گے تو فتنہ پیدا ہو گا اور یہ لوگ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگ جائیں گے۔ کیا ہی لطیف نکتہ قیام امن کے متعلق بیان کیا کہ کسی کے بزرگوں اور قابل تعظیم چیزوں کو بُرا بھلا نہ کہا جائے کیونکہ اس سے آپس کے بہت سے جھگڑے اور فساد رک سکتے اور بہت اچھے تعلقات پیدا ہو سکتے ہیں۔ آٹھویں ظاہری خوبی قرآن کریم فحش کلامی اور ہر قسم کی بد اخلاقی سے منزہ کتاب میں یہ ہے کہ وہ فحش کلامی اور ہر قسم کی بد اخلاقی کی تعلیم سے منزہ ہے۔ یعنی اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے پڑھ کر طبیعت منغص ہو جائے یا شرمائے یا بد اخلاقی معلوم ہو ۔ قرآن کریم ایک شریعت کی کتاب ہے۔ اور بوجہ شریعت ہونے کے اسے ایسے مضامین پر بھی بحث کرنی پڑتی ہے جو نہایت نازک ہوتے ہیں مگر وہ اس طرح ان کو بیان کر جاتا ہے کہ جن کو پڑھ کر جو واقف ہے وہ تو سمجھ جائے اور جس کی عمر ابھی سمجھنے کی نہیں اسے خاموش گذار دیا جائے۔ مثلاً اس میں مرد اور عورت کے تعلقات کا