انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 130

انوار العلوم جلد !! ۱۳۰ فضائل القرآن (۲) وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ - وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ - ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهِ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - ۳۴ دیکھو کس طرح ان آیات میں توازن کو قائم رکھا گیا ہے۔ یہ ہے تو نشر مگر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اشعار ہیں۔ مگر باوجود اس کے کوئی لفظ زائد نہیں۔ شاعر تو مضمون کے لحاظ سے الفاظ کو آگے پیچھے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں مگر یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔ یہ آیتیں اس زمانہ کے متعلق ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ شعر ہیں۔ وزن قائم رکھنے کے لئے ان میں توازن کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور مقفی عبارت ہے مگر ترتیب خراب نہیں ہوئی۔ نہ کوئی زائد چیز آئی ہے، ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر ہے۔ سورة۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي ۃ جمعہ کی ابتدائی آیات کی تفسیر السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ہر ایک چیز خواہ وہ آسمانوں میں ہے خواہ زمین میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ یعنی ہر چیز ثابت کرتی ہے کہ خدا بے عیب ہے ۔ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ۔ وہ ملک ہے، تدوس ہے عزیز ہے، حکیم ہے۔ یہاں قافیہ کے لحاظ سے حکیم پیچھے آیا ہے۔ ۔ اگر ملک پیچھے آتا تو وزن قائم نہ رہتا۔ آگے اسی ترتیب سے مضمون چلتا ہے۔ پہلی صفت خدا تعالیٰ کی یہ بیان کی تھی کہ وہ الملک یعنی بادشاہ ہے۔ اور بادشاہ کا یہ کام ہوتا ہے کہ رعایا کی بہتری اور بہبودی کے احکام جاری کرے ۔ اس لئے فرمایا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِّنْهُمْ جب خدا تعالى ساری دنیا کا بادشاہ ہے تو اس نے اپنی رعایا کو احکام پہنچانے کیلئے امیین میں ایک رسول بھیجا اور اپنا نائب مقرر کیا مگر یہ نائب باہر سے مقرر نہیں کیا بلکہ تم میں سے ہی بھیجا۔ دوسری صفت یہ بیان کی تھی کہ وہ القدوس ہے اس کے متعلق فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہر ایک چیز پاکیزہ ہو اس لئے اس نے رسول کو اپنی آیات دے کر بھیجا تاکہ وہ آیات لوگوں کو سنائے اور ان میں دماغی اور روحانی پاکیزگی پیدا کرے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی آیات سکھا کر انسانی دماغ کو پاک کرے اور پھر يُزَكِّيهِمُ ان کے اعمال کو پاک کرے۔ تیسری صفت یہ بیان کی تھی کہ الْعَزِیز وہ غالب ہے۔ اس کے لئے فرمایا۔