انوارالعلوم (جلد 11) — Page xvi
انوار العلوم جلد 1 تعارف کتب (۶) مستورات سے خطاب حضور نے یہ تقریر ۲۸ دسمبر ۱۹۲۹ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر مستورات کے اجلاس میں فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ عورتوں کیلئے تعلیم نہایت ضروری ہے اس کے بغیر نہ خدا سے ان کا معاملہ درست ہو سکتا ہے اور نہ ہی وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکتی ہیں۔ تعلیم کے سلسلہ میں حضور نے عورتوں کو توجہ دلائی کہ وہ سب سے اول قرآن مجید پڑھیں اور اس پر غور کریں۔ اس کے مضامین کو سمجھیں تاکہ ترقی کی راہیں ان کے لئے کھل جائیں۔ فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھو کہ کس طرح انہوں نے قرآن کریم غور سے پڑھا اور اس پر تدبر کیا۔ یہاں تک کہ وہ مردوں کی بھی استاد بن گئیں۔ اُن کے اقوال سے بڑے بڑے علماء راہنمائی حاصل کرتے رہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ فرمایا کہ دوسری چیز جس کا جاننا دینی تعلیم کیلئے ضروری ہے وہ سنتِ رسول اور حدیث کا علم ہے۔ آنحضرت میں ہم نے خود احکام قرآن پر عمل کر کے دکھایا اور شریعت کے اہم مسائل کی وضاحت فرمائی۔ پس اعمال کی درستی کیلئے اسوہ رسول اور احادیث کا علم حاصل کرنا لازمی ہے۔ م حضور نے فرمایا کہ دینی تعلیم کیلئے تیسری ضروری چیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری حالت پر رحم کرتے ہوئے اس زمانہ کے مأمور سے اردو میں کتابیں لکھوائیں تاکہ انہیں پڑھ کر ہم فائدہ اُٹھا سکیں۔ قرآن مجید کا اس زمانہ کے متعلق علم آپ کی کتب میں موجود ہے۔ ان کے پڑھنے سے تمام دینی مسائل کے حل کی استعداد پیدا ہو جاتی ہے۔ لجنہ اماء اللہ کو ترقی کی طرف خاص توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ عورتوں کو اپنے کام خود سنبھالنے چاہئیں تب ہی وہ ترقی کر سکتی ہیں۔ عورتوں کی ضروریات کا علم عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں کام خود کرنے چاہئیں۔ آخر میں حضور نے انہیں نصیحت فرمائی کہ :۔ "ן اپنے حقوق خود حاصل کرو جو حقوق لینے کھڑا ہوتا ہے خدا اس کے حقوق خود ولاتا ہے۔ نیند سے جاگو ۔ دین کی خدمت کرو تا مردوں کی طرح تم پر بھی خدا کی