انوارالعلوم (جلد 11) — Page xv
انوار العلوم جلد < تعارف کتب (۵) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۹ء جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتے ہوئے حضور نے یہ تقریر ۲۷ دسمبر ۱۹۲۹ء کو ارشاد فرمائی۔ فرمایا کہ چونکہ آج جمعہ کا دن ہے۔ خطبہ جمعہ میں بھی مجھے بولنا پڑے گا اس لئے نہایت اختصار کے ساتھ میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان ایام میں خصوصیت سے دعاؤں میں مشغول رہیں۔ حضور نے فرمایا کہ ہمارے ارادے تب ہی مفید ہو سکتے ہیں جب ان کے ساتھ عمل بھی ہو۔ ارادے ایمان کا جزء ہوتے ہیں اور ایمان کی تمثیل کھیتی سے دی جاتی ہے اور عمل کی پانی ہے۔ جس طرح کھیتی کے سرسبز و شاداب ہونے کیلئے پانی دینا ضروری ہے اسی طرح ایمان کی ترقی کیلئے عمل کی ضرورت ہے۔ فرمایا کہ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ عمل کے لحاظ سے جو ہم سے ستی اور کوتاہی ہوتی ہے اللہ تعالٰی اپنے فضل سے اسے دور کر دے اور ہمیں اپنے نیک ارادوں میں کامیاب و کامران فرمائے۔ حضور نے اپنا ایک پرانا رو یا بیان کر کے احباب جماعت کو تلقین فرمائی کہ وہ دعاؤں سے ایک دوسرے کی مدد کریں کیونکہ یہی کامیابی کی راہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں۔ ”ایمان کی تکمیل ایک دوسرے کی مدد سے ہو سکتی ہے۔ جب مومن دوسروں کیلئے دعا کرتا ہے اور اپنے آپ کو دوسروں کی خیر خواہی میں مصروف کر دیتا ہے تو خدا تعالیٰ اُسے برکت دیتا اور اس کی دعا سنتا ہے۔ پس احباب دعا کریں۔ اپنے علاوہ دوسروں کیلئے بھی دعا کریں۔ ساری جماعت کیلئے دعا کریں بلکہ ساری دنیا کیلئے دعا کریں حتی کہ جو اشد ترین دشمن ہو اس کے لئے بھی دعا کریں کہ خدا کا اس پر فضل ہو۔ اپنے دلوں کو ہر قسم کے کینہ اور عداوت سے اُسی طرح پاک کر لو جس طرح اللہ پاک ہے۔ وہ جس طرح کافر اور مومن دونوں کو رزق دیتا اور اپنے فیوض نازل کرتا ہے تم بھی تمام کدورتوں ، تمام دشمنیوں اور تمام عداوتوں سے اپنے دلوں کو پاک کر کے دعا کرو"۔