انوارالعلوم (جلد 11) — Page 110
انوار العلوم جلد !! ۱۱۰ فضائل القرآن (۲) ابتداء میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔ یہی ابتداء میں خدا کے ساتھ تھا۔ " ها لیکن قرآن کریم اس دلیل کے ساتھ اپنی بات شروع کرتا ہے کہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - اے محمد ! ( م ) تم ان لوگوں کے معلم بن جاؤ اور پڑھو اس خدا کے نام کے ساتھ جس نے دنیا کو پیدا کیا ۔ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ ہاں اے محمد پڑھ کہ تیرے پڑھتے پڑھتے خدا کی عزت دنیا میں قائم ہو جائیگی۔ قرآن کریم کی ایک عظیم الشان پیشگوئی یہ پہلی پیکوئی ہے جو قرآن کریم کے مینہ ہونے کے ثبوت میں پیش کی گئی ہے۔ فرمایا قرآن کے بَيِّنة ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ یہ کتاب خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس کی شان دنیا میں قائم کر دے گی۔ حضرت مسیح علیہ السلام پر مخالفین نے اعتراض کیا تھا کہ اسے شیطان سکھاتا ہے اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا شیطان اپنے خلاف آپ سکھاتا ہے۔ اگر شیطان شیطان کو نکالے تو وہ اپنا ہی مخالف ہوا۔ پھر اس کی بادشاہت کیونکر قائم رہے گی۔ " اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ وہ کتاب جو خدا تعالٰی کی گم شدہ عظمت قائم کرنے کیلئے آئے اسے شیطان کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اول تو کوئی کتاب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو یہ کہہ ہی کس طرح سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی عزت اور عظمت اس کے ذریعہ قائم ہو جائیگی۔ کئی لوگ کتابیں لکھتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ ان کی کتاب دنیا کا نقشہ بدل دے گی لیکن پھر اسی کتاب پر دوسروں سے ریویو کرانے کے لئے منتیں کرتے پھرتے ہیں۔ ایک دوست نے بتایا کہ ایک شخص نے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ شکوہ کرتا پھرتا ہے کہ "الفضل " اس کی کتابوں کے خلاف کیوں نہیں لکھتا۔ ایک اور مدعی نبوت نے مجھے لکھا کہ میں آپ کے پاس اپنی کتاب بھیجتا ہوں خواہ آپ اس کے خلاف ہی لکھیں لیکن لکھیں ضرور۔ تو بیسیوں کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی نتیجہ نہیں پیدا ہوتا۔ پھر کیا یہ معمولی بات ہے کہ ایک ایسے علاقہ میں جہاں بت پرستی کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا۔ وہاں کہا گیا کہ اسے ایسی حالت میں پڑھ کہ تیرے ربّ