انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 111

انوار العلوم جلد 11 {11 فضائل القرآن (۲) کی عزت اس کے ذریعہ دنیا میں قائم ہوتی جائے گی۔ اس کلام کے ذریعہ تیرا رب اَكْرَم کے طور پر ظاہر ہو گا۔ اُس وقت نہ صرف عرب میں بلکہ سارے جہان میں شرک پھیلا ہوا تھا اور حالت یہ تھی کہ آخری مذہب جو عیسائیت تھا۔ اس کے ماننے والے عیسائی خود لکھتے ہیں کہ اسلام اس لئے اتنی جلدی اور اس وسعت کے ساتھ پھیل گیا کہ عیسائیت میں شرک داخل ہو چکا تھا۔ ہندوؤں کی کتابوں کو دیکھو تو یہی معلوم ہو گا کہ اُس وقت ہندوؤں میں بکثرت شرک پایا جاتا تھا۔ زرتشتی بھی مانتے ہیں کہ اس زمانہ میں ہر طرف شرک ہی شرک تھا۔ غرضیکہ تمام مذاہب والے فخر کے ساتھ کہتے تھے کہ اسلام کے پھیلنے کی یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہر مذہب میں شرک پھیل چکا تھا۔ ہم کہتے ہیں یہ درست ہے اور قرآن کریم نے ایسے ہی وقت میں یہ پیشگوئی کی تھی کہ شرک مٹ جائے گا اور خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم ہو جائیگی۔ اُس وقت جب کہ قرآن نے توحید پیش کی مکہ والوں کی جو حالت تھی اس کا ذکر قرآن کریم اس طرح کرتا ہے کہ انہوں نے کہا اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ إِلَهَا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْ عُجَابٌ ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اس نے سارے معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک بنا دیا ہے ان لوگوں کو یہ خیال ہی نہیں آتا تھا کہ وہ اللہ ہیں ہی نہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ سب معبودوں کو اس نے اکٹھا کر کے ایک بنا دیا ہے۔ سورۃ ص میں ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر معا ان کی حالت بدلنے لگی۔ اور اس کے بعد ان میں اس قدر تغیر پیدا ہو گیا کہ انہوں نے اسلامی توحید کے سامنے اپنے ہتھیار ڈال دیئے اور یہ کہنے لگے کہ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللهِ زُلفی ۱۸ یعنی یہ یونہی کہتا ہے کہ ہم مشرک ہیں ہم تو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بتوں کو مانتے ہیں۔ گویا وہ معذرت کرتے ہیں کہ ہم کب کہتے ہیں کہ بت خدا ہیں ہم تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے ذریعہ خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ یہ کتنا عظیم الشان تغیر ہے جو اُن میں پیدا ہوا اور کس طرح خدا تعالیٰ کا اکرم ہونا ظاہر ہو گیا۔ غرض فرماتا ہے ۔ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ تو اس کتاب کو پڑھ کیونکہ اس کے پڑھنے کے ساتھ ہی توحید پھیلنے لگ جائے گی۔ لوگ خدا تعالیٰ کو ماننے لگ جائیں گے اور اس کا جلال دنیا میں قائم ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ مگر یہ تو اس وقت کا حال تھا جب قرآن کریم نازل ہوا۔ اب دیکھ لو کہ کس طرح شرک کے خیالات دنیا سے مٹ رہے ہیں۔ ہندوستان میں