انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page 109

انوار العلوم جلد 1 ۱۰۹ فضائل القرآن : ۰۲ بيِّنة ہے۔ تو آیت عام لفظ ہے اور بَيِّنَة خاص۔ اس سے مراد وہ دلیل ہوتی ہے جو اپنے لئے آپ شاہد ہوتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کس طرح قرآن کریم کے بینہ ہونے کا ثبوت بینہ ہے؟ یہ بھی تو دعوی ہی ہے کہ قرآن بَيِّنَة ہے۔ اس کے لئے میں کہیں دور نہیں جاتا۔ قرآن کریم کے بَيِّنة ہونے کا ثبوت اس پہلی وحی میں ہی موجود ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ۔ باقی کتابیں دوسروں کی دلیلوں کی محتاج ہوتی ہیں مگر قرآن اپنے دعوی کی آپ دلیل دیتا ہے۔ اور قرآن کے بيِّنة ہونے کی دلیل ان تین آیتوں میں موجود ہے جو پہلے پہل نازل ہو ئیں۔ قرآن کریم کا یہ کمال دکھانے کیلئے میں نے سب سے پہلی وحی قرآنی کو ہی لیا ہے۔ سب سے پہلی وحی غار حرا میں نازل ہوئی تھی جب جبرائیل رسول کریم ملی کو نظر آیا اور اس نے کہا۔ اقرا یعنی پڑھ۔ اس کے جواب میں رسول کریم میں اللہ نے فرمایا مَا أَنَا بِقَارِي لاء میں پڑھنا نہیں یہ تھا کہ یہ بوجھ مجھ پر نہ ڈالا جائے۔ کیونکہ اس وقت آپ کے سامنے کوئی کتاب جانتا۔ مطلب یہ تھا کہ کہنا تھا۔ تو نہیں رکھی گئی تھی جسے آپ نے پڑھنا تھا۔ بلکہ جو کچھ جبرائیل بتا تا وہ آپ کو زبانی کہنا اور یہ آپ کہہ سکتے تھے مگر آپ نے انکسار کا اظہار کیا۔ لیکن چونکہ اللہ تعالی نے اس کام کیلئے آپ ہی کو چنا تھا۔ اس لئے بار بار کہا کہ پڑھو۔ ھو۔ آخر تیسری بار کہنے پر آپ نے پڑھا اور جو کچھ پڑھا وہ یہ تھا۔ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ ا کیا ہی مختصری عبارت اور کتنے تھوڑے الفاظ ہیں مگر ان میں وہ حقائق اور معارف بیان کئے گئے ہیں جو اور کتابوں میں ہرگز نہیں پائے جاتے ۔ دوسری کتابوں کو دیکھو تو ویدیوں شروع ہوتے ہیں۔ اگنی میڑھے پروہتم"۔ آگ ہماری آتا ہے۔ بائیبل کو دیکھو تو اس میں زمین و آسمان کی پیدائش کا یوں ذکر ہے۔ ابتداء میں خدا نے آسمان کو اور زمین کو پیدا کیا۔ اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا۔ اور خدا کی روح پانیوں پر مجنبش کرتی تھی۔ ۱۴ انجیل کی ابتداء اس طرح ہے:۔