انوارالعلوم (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 696

انوارالعلوم (جلد 11) — Page xiii

انوار العلوم جلد تعارف کتب میں احباب قادیان کثرت سے شامل ہوئے۔ اس موقع پر حضور نے بصیرت افروز تقریر فرمائی آپ نے فرمایا کہ جہاں تک میں سمجھا ہوں یہاں دو قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ مذبح کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے اور مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور بعض کا خیال یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہماری طرف سے سنتی ہو رہی ہے۔ فرمایا کہ یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ دراصل کام کا وقت اب شروع ہونے والا ہے۔ ہم نے تمام ضروری باتیں اور حالات کمشنر تک پہنچا دیئے ہیں۔ اب دیکھیں گے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ ہندو امن و امان سے رہنے کے متمنی نہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ مسلمان چوہڑے چمار اور گونڈ بھیل کی طرح بن کر رہیں۔ ان حالات میں اب مسلمان سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ وہ ایسی زندگی بسر کرنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں تو انہیں باوقار زندگی گزارنے کیلئے قربانیاں دینی ہونگی۔ حضور نے مذبیح کے سلسلہ میں مقامی لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ :۔ آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس راہ میں کئی مشکلات ہونگی۔ آپ کو بھوکا پیاسا رہنا پڑے گا۔ سپاہیانہ زندگی کی مشق کرنی ہوگی۔ راتوں کو جاگنا ہو گا۔ پہرے دینے ہونگے۔ حضور نے فرمایا کہ ان سب باتوں کو ملحوظ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اس بوجھ کو اُٹھانے کیلئے تیار ہیں اور اس کام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ حضور کے اس سوال پر تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر اقرار کیا کہ وہ پوری طرح اس کام کیلئے تیار ہیں۔ حضور نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے احباب کو نصیحت فرمائی کہ چونکہ مسلمان قانون سے ناواقف ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ انہیں واقف کریں۔ انہیں بتائیں بلکہ اشتہار دیں کہ گائے کا گوشت کھائیں۔ یہ کوئی مجرم نہیں۔ صرف یہ شرط ہے کہ پردہ کے اندر ذبح کیا جائے اور نمائش نہ ہو۔ نیز فرمایا کہ ہمیں ابھی سے سکیم تیار کر لینی چاہئے کہ اگر کمشنر صاحب نے خلاف فیصلہ دیا تو پھر ہمیں کیا کرنا ہے۔ (۴) احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں حضرت خلیفه المسیح الثانی کی کشمیر سے واپسی پر ۵ اکر ۵ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو لجنہ اماء اللہ کی طرف