انوارالعلوم (جلد 11) — Page xii
تعارف کتب انوار العلوم جلد !! (۳) مذبح قادیان حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کشمیر کے سفر کے بعد جب واپس قادیان تشریف لائے تو مقامی جماعت احمدیہ نے حضور کو خوش آمدید کہنے کیلئے یکم اکتوبر ۱۹۲۹ء کو ایک تقریب منعقد کی اور آپ کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا۔ اس میں دیگر باتوں کے علاوہ انہدام مدیح کا بھی ذکر تھا۔ اس ایڈریس کے جواب میں حضور نے یہ تقریر ارشاد فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا جانتی ہے کہ ہم امن اور آشتی قائم رکھنے کیلئے ہر قسم کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ لوگوں کے طعنے سن کر بھی اشتعال سے بچتے ہیں لیکن ایک بات میں اپنے دوستوں کو بھی اور دوسرے لوگوں کو بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ مومن اگر ایک وقت دینی نرمی آشتی اور صلح جوئی کی خاطر قربانی کرتا ہے تو دوسرے وقت جب کہ اس کی آزمائش اور امتحان کو آخری حد تک پہنچا دیا جاتا ہے تو اس وقت اس سے بڑھ کر بہادر اور جری بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اُس وقت بہادری اور شجاعت دکھانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کیونکہ خدا ۔ کیونکہ خدا کے بندے کبھی بزدل نہیں ہوتے۔ آپ نے آپ نے فرمایا :۔ ریح کے سوال پر میں نے ٹھنڈے دل سے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سوال یہ نہیں کہ سکھوں اور ہندوؤں نے اینٹوں کی ایک چار دیواری گرا دی۔ یا یہ کہ ایک خاص غذا کھانے سے مسلمانوں کو روک دیا بلکہ سوال یہ ہے کہ کوئی قوم اپنی نجابت اور شرافت کو ثابت کرنے کیلئے کبھی ایسی زندگی برداشت نہیں کر سکتی کہ ایک دوسری قوم اسے کہے کہ جو میں کہوں وہ کرے اور جس کی میں اجازت دوں وہ کھائے ۔ اس قوم سے بڑھ کر بے غیرت قوم اور کوئی نہیں ہو سکتی جو اپنے کھانے پینے کو دوسری قوم کے اختیار میں دے دے۔" حضور نے وضاحت فرمائی کہ موجودہ حالات میں ذبیحہ گائے کا سوال مسلمانوں کیلئے ایسا اہم ہے کہ اس پر ان کی اولادوں کی غلامی اور آزادی کا انحصار ہے اس وجہ سے ہم اسے حل کرنے کیلئے مجبور ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ اس سلسلہ میں ایک سکیم میرے ذہن میں ہے ارادہ ہے کہ لوگوں کو جمع کر کے یہ سکیم ان کے سامنے پیش کروں اور پھر کارروائی شروع کی جائے۔ اس غرض کیلئے ۶ ۔ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو بعد نماز عصر مسجد نور میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا جس