انوارالعلوم (جلد 11) — Page 69
انوار العلوم جلدا ۶۹ مستورات سے خطاب تب بھی سُبْحَانَ اللهِ کہتی ہے۔ اگر اس کو کہا جائے کہ فلاں ولی کی بات سے درندے تابع ہو گئے تھے تو وہ اسے بھی مان لے گی۔ اس نے تو ایک بات پکائی ہوئی ہے کہ اللہ میاں کی تو ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں۔ حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ رسول کریم میں جب معراج کو گئے تو ایک پہاڑ راستے میں آجانے کی وجہ سے راستہ نہ ملا۔ آسمان سے آوازوں پر آوازیں آرہی تھیں کہ جلدی آؤ جلدی آؤ ۔ وہ اِدھر اُدھر دوڑتے پھرتے مگر راستے کا کچھ پتہ نہ چلتا۔ آخر ایک جگہ دو فقیر بیٹھے ہوئے ملے جو بھنگ گھوٹ رہے تھے۔ ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا ٹھہرو ہمیں بھنگ پینے دو۔ حضرت جبرائیل اور رسول کریم تو جلدی کر رہے تھے لیکن فقیر آرام سے بھنگ پیتے رہے۔ آخر انہوں نے اسے نچوڑ کر اس کے فضلے کا ایک گولہ بنایا اور یا علی کہہ کر پکار کر پہاڑ کو مارا تو پہاڑ پھٹ گیا اور ان کے گزرنے کے لئے راستہ بن گیا۔ ایسے واقعات کو بھی سن کر عورتیں سُبْحَانَ اللهِ کہہ دیتی ہیں۔ جاہل اور بیوقوف اسے سچ مان لیتے ہیں۔ وہ خیال نہیں کرتے کہ اس میں خدا اور رسول سب کی عزت پر حملہ ہے اور علی پر بھی حملہ ہے۔ علی کو عزت رسول کریم میں تعلیم کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی۔ جب ان کی بے عزتی کی گئی تو علی کی عزت کس طرح قائم رہ سکتی ہے۔ ہماری قوم کو دیکھ لو ہم پر کسی نے غلبہ پا کر ہمیں اسلام نہیں سکھایا بلکہ ہمارے آباء نے اسلامی ممالک کو فتح کیا اور اسلام کی خوبیوں سے متأثر ہو کر مسلمان ہو گئے۔ آج ہم کیوں حضرت علی کی عزت کرتے ہیں محض رسول کریم میں تعلیم کی وجہ سے ہم ان پر ایمان نہ لاتے تو علی محض ایک سردار سے زیادہ ہماری نظروں میں عزت نہ پاتے۔ غرض ایسا جاہلانہ ایمان نہیں رکھنا چاہئے۔ یہ شیر خواروں کا سا ایمان ہے کہ ہر وقت دوسروں کے قبضہ میں ہیں۔ دوسرا ایمان فرماتے تھے کہ فلسفیوں کا ہوتا ہے جو ہر بات میں شک پیدا کرتے ہیں۔ یہ گویا ذرا بڑے لڑکوں کا سا ایمان ہے جو دوڑتے اور گرتے ہیں۔ تیسرا ایمان ولیوں کا ایمان ہے جو گویا بالغ و عاقل کا سا ایمان ہے کہ نہ وہ دوسرے کے ہاتھ میں ہوتے اور نہ حرکت سے معذور اور نہ حرکت کرتے وقت گرتے نہ زخمی ہوتے ہیں بلکہ حرکت بھی کرتے ہیں اور نقصان سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔ ہاں تو یاد رکھو کہ عورتیں عورتوں کو اچھی طرح نصیحت کر سکتی ہیں اس لئے لجنہ کا ہونا ضروری ہے۔ انہیں عورتوں کی ضروریات کا علم ہو گا اور اس علم کے ماتحت ان کی باتوں کا ان پر زیادہ گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔