انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 34

انوار العلوم جلد 10 ۳۴ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں ذریعہ نہیں جس سے ان کو زندگی کے مختلف شعبوں میں علمی ترقی کا موقع مل سکے اس لئے ضرورت ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ مدرسین سے پوچھ کر فیصلہ کریں کہ طالب علم کے مذاق اور رجحان طبیعت کے لحاظ سے اسے کدھر جانا چاہئے اور کن کن محکموں کے راستے کھلے ہیں۔ جب یہ انتظام ہو۔ جاوے تو وہ ہر علمی حصہ میں ترقی کر سکیں گے اور انڈسٹری اور گورنمنٹ کی ملازمت میں بھی انہیں پورا حصہ مل سکے گا۔ ہم نے یہ غلطی کی کہ خود کوئی سکیم اس کے لئے تیار نہ کی اور نہ تعلیم یافتہ لوگوں کی فہرست تیار کی۔ تاکہ ہم گورنمنٹ کے وقتاً فوقتاً پیش کرتے۔ لیکن اگر اب تک ہم ایسا نہیں کر سکے تو آئندہ زیادہ دیر تک اس غلطی میں نہیں رہنا چاہئے۔ کر دیتا ہوں اور وہ آخری بات تبلیغ کا فرض ہے کہ وہ تبلیغ کریں۔ یہ مضمون وسیع ہے میں اس کی تشریح نہیں کر سکتا۔ صرف اس قدر کہتا ہوں کہ مسلمان توجہ کریں۔ اور یہ کہوں گا کہ طریق تبلیغ میں اس امر کو مد نظر رکھیں کہ ایک وحشی کو جو ہم سے بھاگتا ہے اپنے اندر داخل کرنا ہے۔ دیکھو اگر تم ایک پرند کو پکڑنا چاہو تو اس کو پتھر مارنا چاہئے یا اپنے ساتھ ملانا چاہئے۔ اگر وحشی پرند یا چرند کے دل کو رام کرنے کی ضرورت ہے تو کیوں اس شخص کے ساتھ محبت اور اخلاق سے پیش آنے کی ضرورت نہیں جس کو تم تبلیغ کرنا چاہتے ہو۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں قرآن شریف نے یہی اصول تسلیم کیا ہے۔ اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ * پس اگر تبلیغ فرض ہے اور ضرور فرض ہے۔ اگر اس فرض کو ادا کرنا ہے اور ضرور کرنا ہے تو یاد رکھو کہ ان کے احساسات کا لحاظ کرو تا کہ وہ تمہاری بات سن سکیں۔ ان کے بزرگوں کا احترام کرو۔ یہ طریق تبلیغ نہیں کہ دوسروں پر حملہ کریں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہندو حملہ نہیں کرتے اور ہمارے احساسات کو مجروح نہیں کرتے۔ میں افسوس سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ایسا کرتے ہیں مگر اس وقت میرا خطاب مسلمانوں سے ہے۔ میں انہیں کہہ رہا ہوں کہ وہ اپنی تقریر و تحریر میں اس اصل کو مد نظر رکھیں۔ میرے ہندو بھائی مجھ سے ناراض ہیں کہ میں نے چھوت چھات کی تحریک کیوں کی ہے؟ میں کہہ چکا ہوں کہ کسی منافرت کے خیال سے نہیں۔ ہندو اخبارات کو پڑھو ، انہوں نے ہمیشہ اعتراف کیا ہے کہ میں اپنی تحریروں اور تقریروں میں ان کے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں۔ میری کتابیں موجود ہیں جو سینکڑوں صفحات کی ہوں گی، ان میں کوئی نہیں دکھا سکتا کہ میں نے اس اصل کو چھوڑا ہو۔ پس میں نے منافرت کے خیال سے نہیں بلکہ میں نے دیکھا کہ میری قوم کی بھلائی