انوارالعلوم (جلد 10) — Page 33
انوار العلوم جلد 10 ٣٣ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں چھوت چھات ایک اور امر چھوت چھات کا ہے۔ کسی سے چھوت کرنا یہ فساد کاذریعہ نہیں۔ ہندو ہم سے چھوت کرتے ہیں۔ ہم نے ہیں۔ ہم نے کبھی اس پر فساد نہیں کیا اور ہندو اس کا انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں ملازمت نہیں صنعت و حرفت نہیں۔ وہ ہم کو بتائیں کہ آخر ہم بھی اپنی ضروریات رکھتے ہیں اگر ان کے پورا کرنے کے لئے ہم تجارت کریں اور جن چیزوں میں وہ ہم سے چھوت کرتے ہیں ہم ان سے کریں تو انہیں بڑا کیوں منانا چاہئے۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے بڑھنے پر اعتراض نہ کریں بلکہ خوش ہوں، جس طرح ہم ان کے بڑھنے پر خوش ہوتے ہیں۔ کی وجہ سے ایک غور طلب نکتہ ہندو یاد رکھیں کہ ان کی پہلی تباہی سات کروڑ شو اسات کروڑ شودروں کی وجہ ہوئی تھی اور وہ شودر نہ ہوتے تو کامیاب ہو جاتے۔ اب وہ ہم کو اچھوت اور شودر بنانا چاہتے ہیں وہ اس سے پر ہیز کریں کہ پھر پندرہ کروڑ شودر ان کے لئے اور نقصان کا موجب ہوں گے۔ ہماری ترقی سے ان کا ہاتھ مضبوط ہو گا۔ پھر ان کو ہم سے گلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہماری اس تجارتی جد وجہد سے خوش ہونا چاہئے۔ ہاں میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ جب کوئی قوم کمزور ہو تو اس قوم کا حق ہوتا ہے کہ اس کی مدد کی جاوے۔ تم اگر ہماری مدد نہیں کر سکتے تو ہم کو آپ اپنی مدد کرنے دو۔ آئے دن اسمبلی میں اس قسم کے امور پیش ہوتے رہتے ہیں مثلاً روئی کے متعلق مدد کے لئے کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہندو اور مسلمان بھائی کہتے ہیں کہ ٹیکس انگلستان کے طریق پر نہ ہوں تاکہ صنعت و حرفت ترقی کرے۔ چھوٹا پودا بڑے پودے کے سایہ میں پنپ نہیں سکتا۔ مسلمان ترقی نہ کر سکیں گے جب تک ان کے بھائی ہندو عہد نہ کریں کہ ہم ان کی مدد کریں گے۔ جب مسلمانوں کی حالت مضبوط ہو جاوے اور چھوت چھات چھوٹ جاوے جیسا کہ مجھے یقین دلایا گیا ہے، اس وقت یہ سب روکیں دور ہو جائیں گی۔ اس وقت مسلمان اپنے بھائیوں کی اور اپنی مدد آپ کریں اپنی تجارت کو ترقی دیں مگر بائیکاٹ نہ کریں اور اقتصادی ترقی کے لئے جو سمجھوتہ بھی ہو اسے نہ چھوڑا جاوے۔ اسی طرح علمی آزادی ہو۔ اب مسلمانوں کے لئے عام طور پر مدرسی اور علمی آزادی داری کو روکا نہیں کی موقع ہے ۔ ہے۔ دوسرے شعبوں کی طرف ان کی توجہ نہیں۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ماں باپ واقف نہیں ہوتے اور قومی حیثیت سے کوئی ایسا محکمہ یا