انوارالعلوم (جلد 10) — Page 26
انوار العلوم جلد 10 ۲۶ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں ہیں۔ ہندوؤں کو بھی اس لفظ سے دھوکا لگا ہے اور اسی لئے انہوں نے اپنے نئے مطالبات میں کافر نہ کہنے کا مطالبہ بھی درج کر دیا ہے۔ میں نے مسلمانوں کو بارہا اتحاد اسلامی کی تحریک کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اس قسم کے جھگڑوں میں اغراض مشترکہ میں اتحاد کے وقت نہ پڑیں۔ ہر شخص جو اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے ہم اس سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی اتحاد کر لیں۔ میں نے مسلمانوں کی جو سیاسی تعریف کی ہے اسے تمام دوسرے لوگوں نے بھی صحیح سمجھا ہے۔ پھر مسلمانوں پر تعجب ہو گا اگر وہ اس حقیقت پر غور نہ کریں۔ میری بات کو اچھی طرح سمجھ لو میرا فیصلہ یہ ہے کہ جو فرقہ اپنے آپ کو مسلم کہتا ہے اور قرآن مجید کی شریعت کو منسوخ قرار نہیں دیتا اس سے اتحاد کر لو۔ قومی برکات اور انعام قومی اتحاد کی روح سے وابستہ ہیں۔ اب تیسرا فرض یا قومی ذمہ داری نظام ہے۔ نظام کے " نظام کے متعلق ضروری ہے تیسرا فرض نظام کهنه ای با خصوصیات وصیت سے یاد رکھیں اور وہ یہ ہے کہ اس وقت تک نظام کے لئے سب کو ششیں بیکار ہو رہی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چند آدمیوں نے (جو اپنے تمول یا اپنی علمی وجاہت یا کسی اور ذریعہ سے سمجھتے تھے کہ وہ ممتاز ہیں) ملکر ایک کمیٹی بنائی۔ وہ خلافت کمیٹی ہو یا لیگ یا کوئی اور۔ اسی ترکیب کا نام انہوں نے نظام قرار دے لیا مگر عملی تجربہ اور واقعات نے بتا دیا کہ یہ اصل نظام نہ تھا اور یہی سچ تھا کیونکہ نظام کا یہ مطلب نہیں۔ اس کے تو معنے ہیں یہ ہیں کہ ہر مسلم اس سلک میں ہو اور یہ ناممکن ہے جب تک کوئی نظام نمائندگی کے اصول پر نہ ہو کوئی نظام نمائندگی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب تک سات کروڑ مسلمانوں کے نمائندے نہ ہوں کوئی تحریک نظام کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اب تک لوگوں نے جو مختلف کمیٹیاں بنا کر نظام قائم کرنا چاہا یہ اوپر سے نیچے لانے کا طریق ہے اور یہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اصل طریق نیچے سے اوپر لے جانے کا ہے اور وہ نمائندگی کے اصول پر ہو گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص نے سوال کیا۔ آپ نے فرمایا جاؤ اپنے قبیلہ کا ایک سردار منتخب کر کے لاؤ۔ آپ نے اس میں تعلیم دی تھی کہ اصول نمائندگی پر عمل ہونا چاہیے۔ جب تک اس روح کو پیدا نہ کرو گے کامیابی ممکن نہیں۔ اس وقت تک جیسا کہ میں نے ابھی کہا چند عام دولت مند سیاسی لوگ مل کر ایک انجمن بنا لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نظام ہے۔ ہم ان کو لیڈر تو کہہ سکتے ہیں نمائندے نہیں۔ لیڈر کے معنے ہیں آگے چلنے والے یا پیچھے چلانے