انوارالعلوم (جلد 10) — Page 25
انوار العلوم جلد 10 ۲۵ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں دو سرا قومی فرض اتحاد دوسرا قومی فرض اتحاد ہے۔ قومی ترقی چاہتے ہو تو مشترک امور میں ایک ہو جاؤ۔ مثلاً ملازمت کا سوال ہے کہ مسلمانوں کو حکومت کے مختلف محکموں میں ملازمتوں کے لئے ان کا جائز حق دیا جاوے۔ اس مطالبہ میں احمدیت اور غیر احمدیت کا کیا سوال ہے ؟ غور کرو مسیح کی وفات یا زندگی کو ملازمتوں کے مسئلہ سے کیا تعلق؟ اگر میں احمدی ہو کر گورنمنٹ سے اپنا حق مانگتا ہوں تو کیا اس سے عیسیٰ کی وفات ثابت ہو جائے گی؟ یا غیر احمدی اپنا حق مانگتا ہے تو اس سے حیات ثابت ہو سکے سکے گی؟۔ یہ دنیا کا معاملہ ہے اس میں سب شریک ہیں اور سب کا یکساں فائدہ ہے۔ پس ہم کو ایسے معاملات میں بلا خیال فرقہ کے ایک ہو جانا چاہئے تاکہ ہمارے مطالبہ میں قوت اور اثر پیدا ہو۔ وت اور اثر پیدا ہو۔ منی کو سب ۔ کو سب سے زیادہ، پھر شیعہ کو، پھر ہم کو، پھر اہل حدیث کو، پس جب تک باوجود اختلاف کے مل کر نہ رہیں گے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ اختلاف مٹا نہیں کرتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وجود کے آنے پر بھی اختلاف رہا اس لئے کہ وہ طبعی چیز ہے۔ صحابہ میں بعض مسائل میں اختلاف ہوتا۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم الشان صحابہ میں بھی اختلاف ہوا مگر وہ فوراً صاف دل ہو گئے اس لئے اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ یہ اختلاف علماء صلحاء اور اولیاء میں ہوتے رہے اس کی پروا نہ کرو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةً " فرما دیا تو اس سے ڈرنا اور گھبرانا کیوں؟ اختلاف کو رحمت بناؤ نہ کہ لعنت۔ اب میں بتاتا ہوں کہ یہ اختلاف رحمت کیوں ہے؟ دیکھو اگر سائنس دانوں میں اختلاف نہ ہوتا تو یہ ایجادات جو آئے دن ہو رہی ہیں اور جن سے ملک اور قوم کو نفع پہنچتا ہے کیونکر ہو تیں۔ اسی اصول پر اگر امت میں رہ کر اختلاف کریں تو رحمت کا موجب ہو گا، اس نکتہ کو سمجھ لو۔ اگر تم باوجود اختلاف کے اتحاد کرو گے تو کیوں رحمت نہ ہو گا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب ایک دوسرے کو کافر کہنے کا سوال ہے تو اتحاد کیسے ہو؟ میں کہتا ہوں یہ اعتراض غلط ہے۔ ایک شیعہ اگر منار پر چڑھ کر دس ہزار مرتبہ کافر کے یا کوئی اور دوسرے کو کافر کہے تو اس سے اتحاد پر اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ جب میں ایک ہندو سے مل کر گورنمنٹ سے متحدہ قومیت کے نام سے حقوق کا مطالبہ کر سکتا ہوں تو کس قدر شرم کی بات ہو گی کہ ہم مختلف فرقوں کے مسلمان اتحاد اسلامی کے رنگ میں اسلامی حقوق کا مطالبہ نہ کر سکیں؟ کافر کو لوگ شاید گالی سمجھتے ہیں حالانکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ابھی بعض کو تاہیاں اس میں