انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 27

الدار العلوم جلد ID ۲۷ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں والے۔ ہمارے سارے نظام کا نقص سارے نظام کا نقص یہ ہے کہ نمائندگی کے ذریعہ کام نہیں کیا گیا اور یہی وجہ اس کی ناکامی کی ہے۔ مثلاً فرض کرو مولوی محمود الحسن صاحب دیو بندی عالم تھے، ان کا بڑا رتبہ سمجھا جاتا تھا مگر کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستان کے نمائندے تھے۔ وہ ایک دینی لیڈر کہلا سکتے ہیں لیکن ملک ان کی ہر بات کو نہیں مان سکتا تھا۔ پس نمائندگی کے طریق کو اختیار کیا جاوے تا اس اصول پر جو نظام ہو گا وہ مضبوط اور صحیح ہوا گا۔ ہم کو لیڈروں کی ضرورت نہیں بلکہ پیروؤں کی ضرورت ہے۔ لیڈر سینکڑوں ہیں اور سینکڑوں مل سکتے ہیں مگر پیرو نہیں اور یہ نہیں ہو سکتے جب تک ہمارے نمائندے مجلس میں نہ بولتے ہوں۔ پس میرے نزدیک موجودہ طریق کو اسلامی حریت قبول نہیں کر سکتی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاف فرماتے ہیں کہ تو کسی بندے کا غلام نہیں۔ ہوتا ہے کہ اگر موجودہ طریق نظام و نظام درست نہیں تو پھر کس نظام کیونکر قائم ہو ؟ طرح ہم اپنے قوی نظام کو قائم کرسکتے ہیں یہ سوال نہایت اہم قومی نظام یہ اور ضروری ہے۔ میرے نزدیک ہر قصبہ ، شہر اور گاؤں میں ایسی مشترکہ سوسائٹیاں بنائی جاویں جن میں اصول نمائندگی کی تربیت ہو۔ اگر اس قسم کی سوسائٹیاں اور کمیٹیاں بن جاویں پھر کسی کو طاقت نہ ہوگی کہ کسی کو ذبح کر سکے یا کسی کے حقوق کو پامال کر سکے۔ اس لئے کہ وہ سات کروڑ عوام کی آواز ہو گی کسی لیڈریا فرد واحد کی آواز نہ ہوگی۔ نبیوں کی آواز نہیوں کا معاملہ اس سے بالکل جدا ہے۔ اسے خدا تعالی بھیجا ہے اسکی تائیدات اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ وہ خدا تعالیٰ پر زندہ ایمان پیدا کرنے کے لئے آتا ہے اس کی آواز اپنی نہیں بلکہ خدا کی آواز ہوتی ہے۔ ملائکہ کی ایک جماعت اس کی تائید کی جماعت اس تائید کے لئے ہوتی ہے۔ اس کی کامیابی کے اسباب اور ہوتے ہیں۔ لیکن قومی ترقی کے لئے جو اصول اور قانون دیتے ہیں وہ اس رنگ میں ہوتے ہیں جو نمائندگی کے اصول پر ہوں۔ گاندھی جی کو کس قدر عزت ملی۔ لوگوں نے ان کے جلوس نکالے اور روپیہ بھی دیا۔ مگر کیا آخر کار وہ کام بار وہ کامیاب ہو گئے ؟ ہرگز نہیں۔ گاندھی جی نے اپنے آپ کو کھڑا کیا تھا کہ ۶ ماہ میں سوراج لے لوں گا۔ لوگوں نے کھڑا نہ کیا تھا اور نتیجہ جو ہوا وہ ظاہر ہے۔ پس لیڈروں اور ان کی مجلسوں کی ملک کو اس قدر ضرورت نہیں جس قدر ملک میں عملی پیروان کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت ایک مشترکہ انجمن کے وجود سے پوری ہو گی۔