انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 598

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۹۸ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں کچھ احسان نہیں یہ خدا کا مجھ پر احسان ہے۔ بادشاہت کے جانے کا مجھے کچھ بھی ڈر نہیں وہ خدا جس نے مجھے بادشاہت عطا کی میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں ! رکھتا ہوں اور یہ ظلم جو تم مجھ سے کرانا چاہتے ہو ہرگز نہیں کروں گا۔ ایک وقت تو یہ حالت تھی لیکن پھر وہ زمانہ بھی آیا جب کہ یہ اسلام نبی کریم میں پر اور صحابہ کے دشمن مسلمان ہوئے اور اخلاص میں اعلیٰ درجہ کی ترقی کی۔ یہی عمرو بن عاص جب مسلمان ہو گئے تھے تو ا تو اپنے متعلق کہنے لگے ۔ مجھ پر دو زمانے آئے آئے ایک اسلام کی مخالفت کا اور ایک موافقت کا۔ مخالفت کے زمانہ زمانہ میں میں نبی کریم میں سے ایسا بغض رکھتا تھا کہ حقارت سے کبھی چہرہ نہیں دیکھتا تھا پھر موافقت کا زمانہ آیا اس میں نبی کریم مسلم کی محبت اس قدر دل میں جاگزیں ہوئی اور آپ کا جلال ایسا تھا کہ میں رعب کی وجہ سے آپ کے چہرہ کی طرف نگاہ نہیں کر سکتا تھا۔ ابو جہل کا لڑ کا عکرمہ تھا پہلے مخالفت کرتا رہا لڑائیوں میں سرگرم حصہ لیتا تھا مگر جب اسلام اختیار کیا تو ہر طرح کی قربانیاں کیں ، جان و مال سے دریغ نہ کیا اور اسلام کی اس قدر خدم خدمت کی کہ اپنا پورا جان نثار ہونا ثابت کر دیا ۔ غرضیکہ وہ دشمنان اسلام جو سخت مخالفت پر ملے رہتے تھے آخر کار انہوں نے حقانیت کو مانا اور مان کر ہر طرح کی قربانیوں میں حصہ لیا۔ اسی طرح ایک وقت تو وہ تھا کہ آنحضرت میں یہ اور صحابہ کرام کو گھروں سے باہر نکلنا دشوار تھا۔ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر گزارہ کرنا پڑتا تھا تاکہ دشمنوں کے شر سے محفوظ رہیں لیکن پھر وہ بھی زمانہ آیا کہ آنحضرت میں یہ فاتح کی حیثیت سے ایک ہزار لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ اس طرح وہ دن آیا کہ دشمن کو دروازے بند کر لینے پڑے اور کسی کو طاقت نہ ہوئی کہ باہر نکل سکے۔ وہ لوگ جو غریب سمجھے جاتے تھے اور جو اتنے مظلوم تھے کہ کوئی ان کی فریاد کو نہیں پہنچتا تھا، اس وقت وہ فاتح کی حیثیت سے داخل ہو رہے تھے اور اس دن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کو دکھا دیا کہ کس طرح چھوٹے بڑے بنائے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں۔ رضي ئے تو ان کے باپ پھر آنحضرت مسلم کی وفات پر جب حضرت ابو بکر اللہ خلیفہ ہوئے تو عنه سے کسی نے کہا ابو بکر مسلمانوں کا خلیفہ ہو گیا۔ اس پر وہ تعجب سے پوچھنے لگے کون ابو بکر؟ کیا ابو قحافہ کا بیٹا؟ جب ان کو یقین دلایا گیا کہ وہی خلیفہ ہوئے ہیں تو وہ دریافت کرنے لگے۔ کیا