انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 597

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۹۷ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں ہم وطنوں کو آرام سے بسنے دیں۔ انہوں نے حبشہ کے بادشاہ کو تحفے بھیج کر اس بات کے لئے رضا مند کرنا چاہا کہ وہ مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکال دے لیکن جب یہ تدبیر کا جب یہ تدبیر کارگر نہ ہوئی تو بعض ان میں سے حبشہ پہنچے ان میں سے ایک عمرو بن عاص بھی تھے جو بعد میں بہت بڑے صحابی ہوئے انہوں نے مصر فتح کیا تھا۔ انہوں نے جا کر حبشہ کے بادشاہ سے کہا یہ لوگ ہمارے غلام ہیں اور بغاوت کر کے وہاں سے بھاگ آئے ہیں۔ بادشاہ منصف مزاج تھا اس نے مسلمانوں کو بلایا اور دریافت کیا آپ لوگوں پر کیا الزام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ اے بادشاہ! ہمارا قصور اس کے سوا کوئی نہیں کہ ہم لوگ چوری کیا کرتے تھے ، بدکاری میں مبتلاء تھے، شرک کے گناہ سے ملوث تھے، ہر ہر قسم کا دغا فریب کرتے تھے کہ خدا ا کا کا ایک برگزیدہ پیدا ہوا اس نے ہمیں ان باتوں سے روکا۔ ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور یہ سب بُرائیاں چھوڑ دیں بس یہی ہمارا قصور ہے۔ یہ تقریر ایسے وقت بھرے الفاظ میں کی گئی کہ بادشاہ اور درباری سب رو پڑے اور بادشاہ نے انہیں واپس دینے سے انکار کر دیا ۔ ا تحائف جب اس طرح بھی اہل مکہ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو عمرو بن عاص نے اپنے ساتھی سے کہا اب میں درباریوں کو ان کے خلاف اکساتا ہوں۔ چنانچہ اس نے درباریوں کو تحفے دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ بادشاہ کو یہ کہہ کر مخالف بنائیں کہ یہ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہتک کرتے ہیں۔ بادشاہ عیسائی تھا اسے اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی۔ دوسرے دن درباریوں نے بادشاہ سے کہا اے بادشاہ! یہ لوگ نہ صرف مکہ والوں کے دشمن ہیں بلکہ تمہارے بھی دشمن ہیں کیونکہ یہ حضرت عیسیٰ کی توہین کرتے ہیں۔ بادشاہ نے پھر مسلمان مہاجرین کو بلایا اور اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کہا ہم لوگ حضرت عیسیٰ کو خدا کا نبی مانتے ہیں اور دل سے ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ ہاں ہم انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتے اور سورۃ مریم کی آیات سنائیں۔ بادشاہ نے ان کا جواب سنکر ایک تنکا اُٹھایا اور خدا کی قسم کھا کر کہا میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس سے زیادہ اس تنکا کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔ درباری یہ سن کر بادشاہ کے خلاف سخت برافروختہ ہو گئے مگر بادشاہ نے انہیں وہ واقعہ یاد دلایا کے مگر جب کہ وہ اس کے باپ کی وفات پر اسے قتل کر کے اس کے چچا کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے۔ سے خدا نے کچھ ایسے سامان کر دیئے کہ بادشاہت اسے مل گئی۔ بادشاہ نے کہا کہ تم لوگوں کا مجھ پر