انوارالعلوم (جلد 10) — Page 599
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۹۹ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں الله عنه بنو ہاشم نے ان کو مان لیا ہے، بنو عبد الشمس، بنو عبد المطلب وغیرہ نے ان کی اطاعت اختیار کرلی ہے ؟ جب کہا گیا کہ ہاں سب ۔ ہاں سب نے مان لیا ہے تو حضرت ابو بکر ان کے والد نے اگر چہ وہ پہلے اسلام میں داخل تھے مگر کمزور ایمان رکھتے تھے کلمہ شہادت پڑھا اور ک شہادت پڑھا اور کہا آج مجھے یقین ہو گیا ے اسلام کہ اسلام سچا ہے ۔ کہ یہ آنحضرت مسیل الیہ کی ہی قوت قدسیہ کا اثر ہے کہ ان قبائل نے ابو بکر ان کی اطاعت اختیار کر لی، ورنہ ابو بکر کی کیا حقیقت تھی۔ الله عنه رضحت پھر حضرت ابو ہریرہ کو دیکھو۔ فتوحات کے زمانہ میں ایک دن ریشمی رومال میں تھوک کر کہنے لگے ۔ واہ واہ ابو ہریرہ - ایک وہ زمانہ تھا کہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو جانے پر لوگ ہو۔ الله عنه مرگی کے خیال سے جوتیاں مارا کرتے تھے اور ایک یہ زمانہ ہے ریشمی رومالوں میں تھوکتے پاس بیٹھنے والوں نے یہ بات سنکر پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟ کہنے ۔ !؟ کہنے لگے آنحضرت میں ﷺ کے زمانہ میں میں ہر وقت مسجد میں بیٹھا رہتا تاکہ جب آپ باہر تشریف لائیں اور کچھ فرمائیں تو میں سن سکوں اس وجہ سے میرے کھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہ تھا۔ بعض دفعہ سات سات فاقے کرنے پڑتے تھے اور بعض اوقات شدت بھو بھوک کے سبب بے ہوشی طاری ہو جاتی اور اس بے ہوشی کو مرگی خیال کیا جاتا اور عرب کے رواج کے ماتحت اس کا علاج جو تیوں سے کیا جاتا۔ ایک دفعہ جب کہ بھوک نے بہت ستایا ستایا تو میں نے صدقہ کی آیت نکال کر حضرت ابو بکر ال الله عنه کے پیش کی۔ انہوں نے اس کا مطلب بیان کیا اور چل دیئے۔ اس طرح حضرت عمر ان کے پیش کی۔ انہوں نے بھی مطلب بیان کیا اور چل دیئے۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں جب وہ مطلب بیان کر کے چل پڑتے اور آیت کے پیش کرنے سے میری غرض کو نہ سمجھتے تو میں اپنے دل میں کہتا کیا یہ معنی مجھے معلوم نہ تھے یہ مجھ سے بہتر تو نہیں جانتے۔ اس اثناء میں آنحضرت تشریف لائے اور فرمایا ابو ابو ہریرہ! ہریرہ! کیا کیا بھوک بھوکا لگی ہے۔ ہے میں نے عرض کیا ہاں۔ اس پر آپ نے مسجد کے دوسرے غرباء کو بھی بلانے کے لئے فرمایا ۔ چنانچہ جب میں سب کو بلا کر لے گیا تو آپ نے دودھ کا ایک پیالہ نکالا اور پلانا شروع کیا مگر مجھے چھوڑ کر پہلے دوسروں کو پلانے لگ گئے۔ اس پر میں دل میں کڑھا کہ بھوک ۔ کہ بھوک سے تو میں مر رہا تھا ایک پیالہ پینے لگ گئے ہیں مجھے کیا ملے گا۔ آنحضرت کی ہم نے سب کو پلا کر مجھے فرمایا۔ ابو ہریرہ! اب تم پیو۔ میں نے پیا۔ حضور نے فرمایا اور پیو۔ پھر میں نے پیا۔ اس طرح حضور نے مجھے کئی بار پلایا ۔ حتی کہ پیٹ میں ذرا بھی گنجائش باقی نہ رہی۔ یہ واقعہ سنا کر حضرت ابو ہریره الية روده ہے وہ دوسرے رضی