انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 596

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۹۷ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں پہنچایا تو آپ کی باتوں میں کوئی ایسی بات نہ تھی : انہ تھی جو بُری ہو۔ آ۔ آپ نے ایک بات بھی ایسی نہ کسی آپ کا جس سے مخالفین یہ نتیجہ نکالتے کہ یہ شخص اپنی بڑائی چاہتا ہے اور ہمیں گرانا چاہتا ہے۔ اگر رسول کریم میں نے نماز کا نماز کا حکم دیا تو اس میں آپ کا کوئی ذاتی فائدہ نہ تھا، سرا سر دوسروں کے ہی فائده مائدہ تھا۔ اگر آپ نے حقیقی مالک کو راضی کرنے کی تعلیم دی تو جو لوگ اس تعلیم پر چلتے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتے ان کی اپنی ذاتوں کو ہی فائدہ پہنچتا رسول کریم اللہ کو کیا فائدہ ہوتا۔ اگر رسول کریم میں سلیم نے زکوۃ دینے کا حکم دیا تو اس میں بھی لوگوں کا ہی فائدہ تھا نہ کہ آپ کا۔ آپ نے تو سیدوں کو زکوۃ لینے سے منع کر دیا حالانکہ سیدوں میں بھی غریب ہوتے ہیں۔ تو نہ صرف آپ زکوۃ کے مال سے مجتنب رہے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی فرما گئے کہ ان کے لئے زکوۃ کا مال جائز نہیں۔ کے دوسرے ای طرح رسول کریم ملی تعلیم نے جھوٹ بولنے سے منع فرمایا اس میں آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوتا تھا کونسی جاگیر مل جاتی تھی یہ صرف لوگوں کے فائدہ کے لئے آپ نے تعلیم دی۔ اسی طرح چوری کرنے سے منع فرمایا۔ اس سے بھی آپ کی ذات کو کچھ فائدہ نہ تھا صرف لوگوں کے بھلے کے لئے فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ کے گھروں میں تو بعض اوقات کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا اس حالت میں یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے جو چوری سے منع فرمایا تو اس لئے کہ تا آپ کے گھر محفوظ رہیں بلکہ یہ حکم صرف لوگوں کے اموال کی حفاظت کیلئے دیا۔ اسی طرح آپ نے ظلم آپ نے ظلم کرنے سے منع فرمایا یہ حکم بھی اس لئے دیا تا لوگ ایک دو کے ظلم سے بچیں ورنہ آنحضرت ملی یم خود تو علیحدگی میں عبادت کر کے اپنا وقت گزارتے تھے۔ پس جو بھی تعلیم رسول کریم میں ہم نے لوگوں کو دی نہ تو اس میں کوئی بُرائی تھی اور نہ آپ کی اس میں کوئی ذاتی غرض تھی۔ آپ نے جھوٹ سے منع فرمایا اس میں کونسی مجری بات تھی، ۔ چوری سے منع فرمایا اس میں کونسی؟ کونسی بری بات تھی بدکاری سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی ، عرب لوگ شراب سے سے بد مبت و رہتے تھے ان کو شراب پینے سے منع فرمایا اس میں کونسی بڑی بات تھی مگر باوجود اس کے پھر بھی لوگوں نے آپ کو سخت تکلیفیں دیں۔ آپ کے ماننے والوں پر ایسے ظلم و ستم ڈھائے کہ وہ ہمیشہ مصائب کا تختہ مشق بنے رہے۔ ان تکالیف سے تنگ آکر بعض صحابہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر پناہ گزیں ہوئے مگر مکہ والوں کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی کہ چار پانچ سو کوس پر بھی وہ اپنے غریب