انوارالعلوم (جلد 10) — Page vi
ج سے منوا لیا اور قیام پاکستان کی رائے ہموار ہو گئی۔ حضور نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ یہ امر قانون اساسی میں داخل کیا جائے کہ قوموں کی مذہبی آزادی کو کسی قانون کی آڑ میں محدود نہیں کیا جائے گا۔ اس مجموعہ کی آخری قابل ذکر بات اس میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر چھ تحریرات و تقاریر ہیں یہ وہ دور تھا جب بعض متعصب ہندؤوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں دلآزار کتب لکھیں اور جواب میں حضرت مصلح موعود نے عالمگیر سطح پر سیرۃ النبی صلی ایم کے جلسوں کے انعقاد کا اعلان فرمایا۔ یہ تاریخ احمدیت کا ایک سنہری دور تھا جب مسلمان اور غیر مسلم ہندو، سکھ، عیسائی حضرات بھی یکجا ہو کر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں تقاریر کر رہے تھے۔ حضرت مصلح موعود کے کارناموں میں سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسوں کا اجراء بلا شبہ ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے۔ اس جلد کی تیاری کے مختلف مراحل میں بہت سے بزرگان اور مربیان سلسلہ نے اس اہم کام میں خاکسار کی عملی معاونت فرمائی ہے۔ نے ابتدائی پروف ریڈنگ، مسودات کی ترتیب اور اصلاح کے سلسلہ میں بہت محنت اور اخلاص سے خدمات سرانجام دی ہیں۔ نے پروف ریڈنگ، حوالہ جات کی تلاش ان کی نظر ثانی، اعراب کی درستگی اور Re-Checking کے سلسلہ میں دلی لگن اور بشاشت سے اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ کا بھی خاکسار دلی شکریہ ادا کرتا ہے۔ اس جلد کی فائنل پروف ریڈنگ اور تیاری کے مختلف مراحل میں ان کے گرانقدر مشوروں اور