انوارالعلوم (جلد 10) — Page v
جائیں۔ حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص یہ کرے تو یہ ایک اچھا کام ہو گا۔ حضرت مصلح موعود کا یہ ارشاد آج بھی جماعت احمدیہ کے قلم کاروں اور ریسرچ سکالروں کو صلائے عام دے رہا ہے خدا کرے کہ کوئی احمدی اس نیک کام کا بیڑا اٹھانے والا ہو۔ اس مجموعہ میں دوسری اہم کتاب ”نہرو رپورٹ ) رور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح" ہے یہ کتاب دراصل ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ایک اہم باب اور ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ کتاب آج بھی حضرت مصلح موعود کی سیاسی بصیرت کا شاہکار سمجھی جاتی ہے۔ ہندوؤں نے مسلمانوں کو نظر انداز کرنے اور گویا ان کا مستقبل تاریک کرنے کے خیال سے نہرورپورٹ شائع کی تھی تاکہ انگریز حکمران اس کی روشنی میں ہندوستان کے سیاسی مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کر لیں۔ بد قسمتی سے بعض مسلمان بھی اس رپورٹ کے حامی ہوتے نظر آ رہے تھے ان میں جناب محمد علی جناح بھی شامل تھے۔ لیکن حضرت مصلح موعود بروقت مسلمانان ہند کی سیاسی راہنمائی کیلئے میدان عمل میں اُترے اور اس کتاب یعنی نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کے ذریعہ نہرو رپورٹ کے مسلمان دشمن کردار کو ایسے ناقابل تردید دلائل سے واضح فرمایا کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئیں اور مسلمانوں کے لیڈر جناب محمد علی جناح جن کو بعد میں مسلمانان ہند نے قائد اعظم کا خطاب دیا وہ بھی نہرورپورٹ کی حقیقت جان گئے اور آخر کار ان کی قیادت میں مسلم لیگ نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ مسلمانوں کی سیاسی رائے بدلنے میں اس رپورٹ نے ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا اور رائے عامہ کا دھارا موڑ کر رکھ دیا۔ اسی مجموعہ میں سائمن کمیشن کے بارہ میں حضرت مصلح موعود کے چار مضامین بھی درج ہیں یہ بھی ہندوستان کی تاریخ آزادی کا ایک اہم موڑ تھا مسلمان اپنی بے بصیرتی سے اس کا بائیکاٹ کر کے رہے سے فوائد سے بھی محروم ہو رہے تھے۔ حضرت مصلح مصلح موعود موع نے ان مضامین کے ذریعہ مسلمانوں کے اہم مطالبات انگریزوں کے سامنے رکھے جن میں جداگانہ انتخاب کا معاملہ بے حد اہم تھا جس کو بعد ازاں مسلم لیگ نے زبردست جدوجہد