انوارالعلوم (جلد 10) — Page 504
۵۰۴ <mark>قرآن</mark> ذوالمعارف ہے (۳۰)یہ بحث بھی ضروری ہے کہ <mark>قرآن</mark> ذوالمعارف ہے اور یہ اس کی خوبی ہے نقص نہیں کہ ایک آیت کے کئی کئی معنے ہوتے ہیں- <mark>قرآن</mark> کامل کتاب ہے (۳۱)اس بات پر بحث کرنی بھی ضروری ہے کہ <mark>قرآن</mark> کریم کامل کتاب ہے اور اب کسی اور آسمانی کتاب کی ضرورت نہیں- مگر اس کے باوجود سنت اور حدیث کی ضرورت ہے اور اس سے <mark>قرآن</mark> کریم کے کمال میں نقص پیدا نہیں ہوتا- <mark>قرآن</mark> کریم کی فصاحت (۳۲) <mark>قرآن</mark> کریم جو فصیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے- اس کا کیا مطلب ہے اور یہ کہ وہ کس طرح بے مثل ہے اور کیوں کوئی اس کی مثل نہیں لا سکتا- <mark>قرآن</mark> کریم کا دوسری الہامی کتب سے مقابلہ (۳۳)<mark>قرآن</mark> اور دوسری کتابوں کی تعلیم کا مقابلہ بھی ضروری ہے- ایک بے نظیر روحانی، جسمانی، تمدنی اور سیاسی قانون (۳۴)اجمالی طور پر اس امر پر بحث کرنا بھی ضروری ہے کہ <mark>قرآن</mark> کریم بے نظیر روحانی، جسمانی، تمدنی اور سیاسی قانون ہے- <mark>قرآن</mark> کریم کے استعارات (۳۵)<mark>قرآن</mark> کریم میں استعارات کیوں آئے ہیں- ان کی کیا ضرورت ہے- یہ سوال بھی قابل حل ہے- تراجِم <mark>قرآن</mark> کی ضرورت (۳۶)یہ بھی کہ <mark>قرآن</mark> کو ترجمہ کے ساتھ شائع کرنا کیوں ضروری ہے؟ حفاظتِ <mark>قرآن</mark> کے ذرائع (۳۷)<mark>قرآن</mark> کریم کی حفاظت کا جو دعویٰ کیا گیا ہے اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ اس دعویٰ کے لئے کیا ذرائع اختیار کئے گئے ہیں- <mark>قرآن</mark> کریم کو شعر کیوں کہا گیا ہے (۳۸)<mark>قرآن</mark> کریم کو جو اس زمانہ کے لوگوں نے کہا کہ یہ ایک شاعر کا کلام ہے اور <mark>قرآن</mark> کریم نے اس کی تردید کی ہے۲؎ اس کا کیا مطلب ہے- یعنی <mark>قرآن</mark> میں شعر کا کیا مفہوم ہے- اور جب