انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 503

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۰۳ فضائل القرآن (1) (۲۴) آیات متشابہات کو حل کرنا بھی ضروری ہے۔ قرآن کریم یہ تو کہتا متشابہات کا حل ہے کہ اس میں کچھ آیات متشابہات ہیں مگر یہ نہیں بتاتا کہ کون کون سی ہیں۔ جب تک ان آیات کا پتہ نہ ہو سارے قرآن کو متشابہات کہنا پڑے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں بھی ایسا علم عطا فرمایا ہے کہ معمولی سے معمولی علم رکھنے والے کے لئے بھی متشابہات کا پتہ لگانا مشکل نہیں رہ جاتا اور نیز یہ کہ آیات متشابہات قرآن کریم کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہیں۔ (۲۵) حروف مقطعات پر بحث کرنی بھی ضروری ہے کہ ان کی کیا حروف مقطعات کا حل ضرورت اور غرض ہے ؟ (۲۶) یہ جو کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم کی سات سات قراء توں سے کیا مراد ہے قراء تیں ہیں ان سے کیا مراد ہے؟ یہ بحث بھی ضروری ہے۔ (۲۷) کلام الہی کو خدا تعالیٰ کے علم سے کیا کیا نسبت ہے۔ پہلے زمانہ میں خلق قرآن کا مسئلہ اس پر بہت بڑی بحث ہوئی ہے۔ اور بڑے بڑے علماء کو فلق قرآن کے مسئلہ پر ماریں پڑی ہیں۔ حضرت امام احمد بن حنبل کو عباسی خلیفہ نے مار مار کر اتنا چور کر دیا کہ وہ فوت ہو گئے۔ غرض خلق قرآن کے مسئلہ ان کے مسئلہ پر بھی بحث ضروری ہے یعنی خدا کے کلام کے کلام کو خدا سے کیا نسبت ہے۔ (۲۸) پھر ایک بحث یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم قرآن کریم ایک زندہ کتاب ہے ایک زندہ کتاب ہے۔ کسی کتاب کی پیشگوئیاں بتا دینا کہ وہ پوری ہو رہی ہیں اس کی زندگی کا ثبوت نہیں۔ تورات اور انجیل کی بعض پیشگوئیاں بھی اب تک پوری ہو رہی ہیں۔ لیکن ان کتب سے وہ مقصد پورا نہیں ہو رہا جو ان کے نازل ہونے کے وقت مد نظر تھا۔ مگر قرآن کریم آج بھی وہ مقصد پورا کر رہا ہے جسے لیکر وہ نازل ہوا تھا۔ (۲۹) پھر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم کن کن علوم کا ذکر کرتا ہے قرآن کریم کین رکن علوم کا ذکر کرتا ہے۔ یعنی سوال یہ ہے کہ مذہب کو کہاں تک دوسری بحثوں سے تعلق ہے۔ اخلاق ، سیاست، تمدن وغیرہ مذہب میں شامل ہیں یا نہیں۔