انوارالعلوم (جلد 10) — Page 454
انوار العلوم جلد ۱۰ لدوند نہرو رپورٹ اور مسلمانوں کے مصالح اس کے مقابلہ میں آبادی کے لحاظ سے دو سو سوا پچھتر ممبریوں کا حق تھا رائے دہندگی کے لحاظ سے دو سو اڑسٹھ (۲۶۸) کا اور حاصل انہوں نے دو سو اکیس (۲۲۱) کیں۔ اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ مسلمان اپنے حق سے زیادہ حاصل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اخذ کردہ نتائج سے اختلاف با وجود ان کھلے کھلے اعداد کے مجھے ان نتائج سے اختلاف ہے سے ہو جو نکالے گئے ہیں۔ اور سب سے پہلے تو میرا یہ سوال ہے کہ کیا دنیا کی کسی معقول ہستی نے بھی ایک وقت کے نتیجہ پر حقائق کا اندازہ لگایا ہے۔ نتائج نکالنے کے لئے تو یہ ضروری ہے کہ کم سے کم دس انتخابوں کے اعداد ہوں اور پھر ان کو ملا کر دیکھا جائے کہ اوسطاً کون سی قوم کس قدر نمائندگی حاصل کر سکتی ہے۔ اگر یہ فرق اعداد کا صرف قریب کے انتخابوں کا ہے، بنگال میں بھی اور پنجاب میں بھی ، تو یقینا اس سے ہم یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ نتائج مسلمانوں کی ہوشیاری کے سبب سے نہیں ہیں۔ بلکہ اس فرقہ وارانہ جذبہ کی شدت کے ہیں جو پچھلے چار پانچ سال میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ ملتان کے فسادات کلکتہ کے فسادات باریسال کے فسادات لاہور کے فسادات اور موب اور موہلوں پر مظالم ایسے نہ تھے کہ انہیں دیکھ اور سن کر ایک غافل سے غافل مسلمان کی آنکھوں میں بھی خون نہ اُتر آتا۔ پس اس جذبات کے عارضی اُبھار کو ایک مستقل معیار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا غیر محفوظ نشستوں کے حامی ہمیں یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ آئندہ بھی دونوں اقوام کے جذبات کو اسی طرح اُبھارتے رہیں گے۔ اور دونوں قوموں میں نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رکھیں گے۔ اگر نہیں اور ملک کی خیر خواہی چاہتی ہے کہ وہ ایسا نہ کریں تو پھر میں پوچھتا ہوں کہ جو نتیجہ دونوں قوموں کے اُبھرے ہوئے جذبات کا تھا اس سے ایک مستقل اندازہ کس طرح لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کسی قوم کو کوئی نا قابل تلافی صدمہ پہنچتا ہے تو اس وقت وہ تمام دوسرے اثرات کو بھلا دیتی ہے اور ہر قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرتی ہے۔ اور اس وقت اس کے اعداد اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ چونکہ پچھلے چند سالوں میں مسلمانوں پر سخت ظلم ہوا ہے۔ بوجہ مظلوم ہونے کے ان کے جذبات دوسری اقوام سے زیادہ مشتعل تھے۔ اور اس وقت کی ان کی جدوجہد پر ہمیشہ کا قیاس کرنا بالکل خلاف عقل ہو گا۔ اور ان اعداد و شمار کی قدر و منزلت اسی وقت ثابت ہو ہو گی، جب کہ کم سے کم کم دس انتخابوں کے اعداد و شمار سے وہی نتیجہ نکلتا ہو جو پچھلے انتخابوں کے اعداد و شمار سے نکلتا ہے کیونکہ مقابلہ اعداد کے صحیح نتائج