انوارالعلوم (جلد 10) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۰ ۴۵۵ شهر و ر پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح واقفین فن کے نزدیک اس وقت نکالے جاتے ہیں جس وقت کہ اول وہ خاص حالات کے اثر سے آزاد ہوں۔ دوم ایک لمبے عرصہ کے اعداد کا مقابلہ کر کے دیکھا جائے۔ سوم ان اعداد و شمار سے یہ نہ ثابت ہوتا ہو کہ کوئی مخالف کو اندر ہی اندر ترقی کر رہی ہے۔ یا اس کے آئندہ ترقی کرنے کا احتمال ہے یعنی یہ ثابت ہو جائے کہ جو نتیجہ ہم نکال رہے ہیں۔ اس کے خلاف ہر سال کے اعداد میں کوئی تدریجی طور پر بڑھنے والا فیکٹر (FACTOR) موجود نہیں ہے۔ مگر ہمارے قابل قدر نوجوان نے اور نہرو کمیٹی نے جو اعداد پیش کئے ہیں، ان میں اوپر کی تینوں باتوں میں سے ایک کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ نہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ ان انتخابوں کے وقت کوئی خاص حالات پیدا نہ تھے (میں ثابت کر چکا ہوں کہ خاص حالات تھے) اور نہ کئی انتخابوں کے اعداد پیش کئے گئے ہیں اور نہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ پچھلے انتخابوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں کی اس برتری کو مٹانے والے کوئی اسباب رونما ہو رہے ہیں۔ اس وجہ سے ان اعداد سے نتیجہ نکالنا بالکل خلاف عقل اور خلاف تجربہ ہے۔ اعداد و شمار کی قدر و قیمت تو صرف اوسط کے گلیہ پر منحصر ہے۔ اس کے سوا اعداد و شمار کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ ایک مثال پر تو انحصار سخت خطرناک ہوتا ہے۔ کمزور سے کمزور فوج بھی کبھی زبر دست سے زبردست غنیم کو ایک میدان میں شکست دے دیتی ہے مگر اس فعل کی تکرار نہیں ہوتی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہندؤوں کا ڈسٹرکٹ بورڈوں کے انتخاب میں دلچسپی نہ لینا اگر اعداد و شمار سے ارے یہ امر ثابت بھی ہو جائے کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں میں مسلمان پچھلے انتخابات میں متواتر جیتے چلے آئے ہیں ، تب بھی اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ کونسلوں کے الیکشن میں بھی مسلمان ضرور ہندؤوں پر غالب رہیں گے، درست نہیں۔ کیونکہ ڈسٹرکٹ بورڈوں اور کونسلوں میں کوئی مشارکت ہی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ڈسٹرکٹ بورڈوں میں کوئی حقیقی عزت اور حکومت نہیں ہے اور نہ ان کا اثر تجارتی امور پر پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ہندو دماغ یعنی بنیا ان میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لیتا۔ وہ اسی وقت دخل دیتا ہے کہ جب اس کا اپنا انٹرسٹ (INTEREST) ہو۔ مگر ڈسٹرکٹ بورڈ میں اس کا کیا انٹرسٹ ہے؟ وہ اگر ان کے انتخاب میں حصہ لیتا ہے تو صرف بعض دوستوں کی خاطر۔ ہاں میونسپل کمیٹیوں میں وہ دخل دیتا ہے اور کونسلوں میں دخل دیتا ہے کیونکہ میونسپل کمیٹیوں کا تجارت سے تعلق ہے۔ اور اسی طرح کو نسلوں کا اور پھر اس کے