انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 453

انوار العلوم جلد ۲۰ 1 ۴۵۳ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح چونکہ یہ حصہ مضمون کا بہت لمبا ہو چکا ہے میں بنگال کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کا انتخاب بنگال اور ۔ اور پنجاب کو ملا کر ہی اس سوال پر روشنی ڈالتا ہوں اور پہلے بنگال کو لیتا ہوں۔ بنگال کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے الیکشنوں کا خود نہرو کمیٹی نے ذکر کیا ہے اور اس کی تفصیل بیان کر کے یہ بتانا چاہا ہے کہ بعض ضلعوں میں مسلمانوں نے اپنے حق سے زیادہ لے لیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کل صوبہ کے لحاظ سے مسلمانوں نے کیا حاصل کیا ہے۔ سو جب ہم ضلعوں کی نشستوں کی میزان لگاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سب بنگال کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کی ممبریوں کی تعداد چار سو اٹھاون (۴۵۸) ہے اس میں سے مسلمانوں کو بحساب آبادی دو سو سینتالیس (۲۴۷) ملنی چاہئے تھی۔ اور ہندؤوں کو دو سو گیارہ (۲۱۱)۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہندؤوں نے دو سو انچاس نشستیں (۲۴۹) حاصل کی ہیں۔ اور مسلمانوں نے دو سو نو (۲۰۹) گویا مسلمان جو چون ) ون (۵۴) فیصد ہیں، انہیں پینتالیس (۴۵) فیصد نشستیں ملی ہیں۔ اور ہندو جو چھیالیس (۴۶) فیصد تھے ، انہیں بچپن (۵۵) فیصد نشستیں ملی ہیں۔ یہ امید ہے جو نہرو کمیٹی ہمیں دلاتی ہے۔ اگر اسی قسم کا حق کو نسلوں میں بھی ملنا ہے تو مسلمانوں کو کیا خوشی ہو سکتی ہے۔ اب میں پنجاب کو لیتا ہوں۔ اور اقرار کرتا پنجاب کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کا انتخاب ہوں کہ بادی النظر میں پنجاب کا معاملہ بہت مضبوط ہے۔ چوہدری افضل حق صاحب نے جو اعداد و شمار پنجاب کے ڈسٹرکٹ بورڈوں کے متعلق شائع کئے ہیں وہ بہت سے لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں اور وہ ان پر نظر ڈال کر یقین کر لیتے ہیں کہ اعداد و شمار اس امر کی تائید میں ہیں کہ مسلمان کافی طاقت رکھتے ہیں کہ باوجود مالی اور علمی کمزوری کے پنجاب میں اپنے حق کی حفاظت کر سکیں۔ بلکہ اس سے زیادہ لے سکیں۔ ان اعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو مناسب آبادی کے لحاظ سے چار سو تینتالیس (۴۴۳) اور حق رائے دہندگی کے لحاظ سے تین سو باسٹھ نشستیں (۳۶۳) ملنی چاہئیں تھیں۔ مگر میں چار سو آٹھ (۴۰۸) ۔ گویا حق رائے دہندگی کے لحاظ سے مسلمانوں نے اپنے مقابل والوں سے چھیالیس نشتیں (۴۶) چھین لیں۔ سکھوں کو آبادی کے لحاظ سے پونے ستاسی (۸۷) نشستوں کا حق تھا۔ اور رائے دہندگی کے لحاظ سے ایک سو پونے پچاسی کا۔ لیکن انہوں نے حاصل ایک سو پچاسی کیں۔ گویا اپنے حق سے نہایت ہی خفیف زیادتی حاصل کی۔ ہندؤوں کا