انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xl of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xl

انوار العلوم جلد 10 ۳۱ تعارف کتب کوشش کرتے ہیں خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اصل کامیابی اللہ تعالی کی رضا کا حصول ہے۔ آرام اور آسائش کے سامان اس کے نتیجہ میں ملتے ہیں خود مقصود بالذات نہیں ہوتے۔ نیز یہ بتایا گیا ہے کہ کامیابی کا گر یہ ہے کہ کوئی قوم ان مقاصد عالیہ کے حصول کیلئے جو قربانی چاہتے ہیں اور جن کا فائدہ بادی النظر میں انسان کی اپنی ذات کو نہیں بلکہ دوسروں کو پہنچتا ہے دوسری اقوام سے آگے بڑھنے اور اول رہنے کی کوشش کرے۔ یہی وہ گر ہے جسے ہماری قوم نے نظر انداز کر دیا ہے اور یہی وہ گر ہے جس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔“ (۲۱) نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے یه سفر ۵ فرمایا۔ جاتے ہیں ۱۹۲۹ء کی گرمیوں میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کشمیر کے سفر پر تشریف لے گئے۔ آپ کا ۵ جون سے شروع ہو کر ۳۰ ستمبر کو ختم ہوا۔ سرینگر میں حضور نے ہاؤس بوٹ میں قیام جماعت احمد یہ باڑی پورہ کی دعوت پر حضور ان کے جلسہ میں شرکت کیلئے وہاں تشریف لے گئے۔ ۱۶۔ اگست ۱۹۲۹ء کو بعد نماز ظہر و عصر حضور نے اس جلسہ میں ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی جو مندرجہ بالا عنوان سے الفضل مؤرخہ ۱۲ نومبر ۱۹۲۹ء میں شائع ہوئی۔ حضور نے اس تقریر میں بتایا کہ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے کئے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے۔ فرمایا کہ جب دنیا میں خدا تعالی کے نبی آتے ہیں تو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہیں یہ خیال ہوتا ہے کہ نبی کی مقبولیت کی وجہ سے وہ حکومت اور سرداری جو انہیں حاصل ہے جاتی رہے گی۔ ان کی مخالفت کی اصل وجہ میں ہوتی ہے۔ ایسے مخالف لوگوں کو انجام کار چھوٹا بنا دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو نبی کو قبول کر لیتے ہیں انہیں ادنی حالت سے بڑا بنا دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ ہر نبی کے وقت ایسا ہوتا آیا ہے۔ نبی کریم الل کے زمانہ میں بھی ایسا ہوا۔ ایک وقت تو وہ تھا کہ آپ