انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxix of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxix

انوار العلوم جلد ۱۰ تعارف کتب انتہائی ظلم کرنے والوں کو لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف کر دیا۔ اور فرمایا کہ جاؤ تم آزاد ہو تم پر کوئی گرفت نہیں کی جاتی۔ آنحضرت ﷺ کے اس عظیم الشان احسان کا ذکر کرنے کے بعد حضور تحریر فرماتے ہیں:۔ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا وہ سن لیں اگر کوئی شخص یہ کہلانے کا مستحق ہے کہ اس نے تلوار کے مقابلہ میں عفو سے کام لیا تو وہ محمد ا ہی ہے۔ اگر عمر بھر کے ظلموں اور دکھوں کو کسی نے بخش دیا تو وہ محمد ﷺ ہی کی ذات تھی۔ میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے مقدس وجود پر کوئی اعتراض کرنے کی بجائے اس کے مخالف بھی اس کی تقدیس کریں گے ۔ ९९ (۲۰) کامیابی جناب خواجہ حسن نظامی صاحب کے زیر انتظام وہلی سے ایک نیا رسالہ ”کامیابی” کے نام سے جاری ہوا جس کا مقصد مسلمانوں میں تجارتی کاروبار کو فروغ دینے کی کوشش کرنا تھا۔ مکرم خواجہ صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے درخواست کی کہ حضور اس کی پہلی اشاعت کیلئے مضمون عنایت فرمائیں۔ حضور ان دنوں خود مسلمانوں کو تجارت کی طرف بار بار رغبت دلا رہے تھے۔ چنانچہ اس نیک مقصد کیلئے حضور نے ایک مختصر مضمون تحریر فرمایا جو رسالہ کامیابی" کے پہلے پرچہ میں شائع ہوا۔ یہ مضمون اخبار الفضل ۱۲۔ جولائی ۱۹۲۹ء میں بھی شائع کر دیا گیا۔ اس مضمون میں کامیابی کا گھر بناتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:- " قرآن کریم نے نہایت مختصر الفاظ میں کامیابی کا گر بتایا ہے اور میں اس کی طرف ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو دوسروں سے آگے نکلنے اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان لوگوں میں جو اللہ تعالی کی خاطر اپنی ہر چیز قربان کر دیتے ہیں یا ایسے لوگوں کے محمد اور معاون ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو مذکورہ بالا جماعت کے نقش قدم پر چلنے کی