انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xli of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xli

انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۲ تعارف کتب اور آپ کے صحابہ کو گھروں سے باہر نکلنا دشوار تھا۔ دشمنوں کے شر سے بچنے کیلئے انہیں گھروں میں بیٹھنا پڑتا تھا۔ پھر وہ زمانہ بھی آیا کہ آنحضرت ا فاتح کی حیثیت سے ایک لشکر جرار کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ اس طرح وہ دن آیا کہ دشمن کو جان بچانے کیلئے اپنے دروازے بند کرنے پڑے کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ گھر سے باہر نکل سکے۔ اُس وقت وہ لوگ جو غریب اور کمزور سمجھے جاتے تھے فاتح اور طاقتور کی حیثیت سے شہر میں داخل ہو رہے تھے۔ اُس دن خدا تعالٰی نے دکھا دیا کہ کس طرح چھوٹے بڑے بنائے جاتے ہیں اور بڑے چھوٹے کر دیئے جاتے ہیں۔ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ نے ایک مأمور بھیجا ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کے ہاتھ پر ہم سب احمدیوں نے بیعت کی ہے اور جماعت احمدیہ میں داخل ہوتے ہیں یہ جماعت بھی پہلے الہی سلسلوں کی طرح بہت کمزور سمجھی گئی۔ لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا جا رہا ہے یہ ترقی کر رہی ہے اور اس کی عظمت لوگوں کے دلوں پر بیٹھتی جاتی ہے۔ اس لئے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر جماعت پوری اصلاح کرلے تو اسے ترقی پر ترقی ملتی جائے گی۔ حضور نے احباب جماعت کو خاص طور پر تبلیغ احمدیت اور جماعتی چندہ جات کی طرف توجہ دلائی کیونکہ جماعتی ترقی کیلئے یہ بنیادی باتیں ہیں۔ آخر میں حضور نے فرمایا:- میں جماعت کے لوگوں کو اس طرف خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خواہ کوئی تاجر ہو یا واعظ زمیندار ہو یا گورنمنٹ کا ملازم خواہ کوئی چھوٹا ہو یا بڑا ہر ایک کو سب سے اول اپنے نفس کی اصلاح کرنی چاہئیے۔ اور لوگوں کے سامنے اپنا ایسا نمونہ پیش کرنا چاہیے کہ جو کوئی دیکھے پکار اُٹھے کہ خدارسیدہ لوگ ایسے ہوتے ہیں۔ اگر ایسی حالت ہو جائے تو پھر دیکھ لو کہ احمدیت کی ترقی کیلئے کس طرح رستہ کھل جاتا ہے اور کتنی جلدی ترقی ہوتی ہے۔“ (۲۲) پنجاب سائمن کمیٹی کی رپورٹ پر تبصرہ پنجاب کونسل کی قائم کردہ سائمن کمیشن کمیٹی میں مسلمانوں کو ان کی اپنی غفلت کی وجہ