انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxv of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxv

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۶ تعارف کتب کامل نبی تھے اسی طرح آپ ایک کامل انسان بھی تھے۔ اپنے اہم کاموں کی وجہ سے آپ نے انسانی جذبات کو نظر انداز نہیں کیا۔ بلکہ اُن کو بھی آپ نے انسانی تقاضوں کے مطابق ایسے رنگ میں پورا کیا کہ تمام انسانوں کیلئے ایک کامل نمونہ قائم ہو گیا۔ مثال کے طور پر حضور نے فرمایا کہ اچھا کھانا، ہنسی مذاق، صفائی پسندی انسانی تقاضے ہیں۔ آپ نے جاہل زاہدوں کی طرح انہیں ترک نہیں کیا تاہم حدود اور قیود کا خیال رکھا۔ اس بارہ میں عمدہ تعلیم دی اور ساتھ ہی اپنا عمدہ اُسوہ پیش کیا۔ اسی طرح دوسرے انسانی تقاضے جیسے میاں بیوی کا تعلق، اولاد کی پرورش وغیرہ میں بھی آپ نے بحیثیت انسان کامل نمونہ قائم فرمایا تاکہ دوسرے انسان آپ کے نقش قدم پر چل کر کامیابی حاصل کریں۔ تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں:۔ "محمد رسول اللہ ہم میں سے ایک انسان ہے اسی لئے اس کے نقش قدم پر چلنے میں ہمیں کوئی محذر نہیں ہو سکتا۔ جو امر اس کیلئے ممکن ہے وہ دوسرے انسانوں کیلئے بھی ممکن ہے۔ وہ ایسا نبی نہیں جو انسانیت کو نظر انداز کر کے اپنے مقام کو حاصل کرتا ہے بلکہ ایسا نبی ہے جو انسانیت کو کامل کرتے ہوئے اور اس کے دروازہ سے گزرتے ہوئے نبی بنتا ہے۔ اس کا ایک ہاتھ خدا کی طرف ہے جو اس کا پیدا کرنے والا اور اسے ترقیات عطا فرمانے والا ہے اور وہ اس کی برکتوں اور اس کے فضلوں کو مانگتا ہے۔ اور دوسرا ہاتھ اپنے ہم جنسوں اور بھائیوں کی طرف ہے جنہیں وہ ہمت کرنے اور اپنے پیچھے چلے آنے اور خدا تعالیٰ کی جنت میں داخل ہونے کا وعدہ دے رہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ وہ كَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی کا مظہر ہے۔ خدا کی لاکھوں کروڑوں برکتیں نازل ہوں تجھ پر اے کامل انسان" (۱۸) رسول کریم ا ایک نبی کی حیثیت میں شروع میں حضور نے وضاحت فرمائی کہ اخبار میں اہم مضامین پر قلم اٹھانے کے معنی میں ہوتے ہیں کہ کسی ایک پہلو پر روشنی ڈال دی جائے ورنہ جو مضامین سینکڑوں صفحات کے محتاج ہیں انہیں ایک دو صفحات میں لے آنا انسانی طاقت سے بالا کام ہے۔ اس لئے اختصار کے XXXXXXX