انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxiv
انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۵ تعارف کتب یہاں مس سے مراد ظاہری طور پر چھوٹا نہیں۔ ایک نجاست سے بھرا ہوا انسان بھی قرآن کو چھو لیتا ہے۔ اگر وہ مسلمان ہو گا تو گناہ گار ہو گا اور اگر کافر ہے تو وہ تو قرآن کو مانتا ہی نہیں۔ پس لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن کی برکات اس کے فضائل اور اس کی رحمتوں سے حصہ نہیں پاتے مگر مطہر لوگ۔ جو لوگ اس کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں وہی اس کی برکات اور رحمتوں سے حصہ پاتے ہیں۔" پس مطہر اور پاک لوگ ہی قرآن مجید کی برکات اور فیوض سے حصہ پاسکتے ہیں یہ نہیں کہ جو کوئی بھی قرآن کے الفاظ پڑھے وہ حقیقی فائدہ اٹھا لے۔ مطہر لوگ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ (۱۷) رسول کریم اللہ ایک انسان کی حیثیت میں گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ادارہ الفضل نے شاندار خَاتَمَ النَّبِيِّن نمبر شائع کیا۔ اس میں جماعت کے بزرگوں کے علاہ غیر احمدی اکابر اور غیر مسلم انشاء پردازوں نے بھی اسوۂ حسنہ رسول کریم ال کے اسوۂ حسنہ پر قابل قدر مضامین لکھے۔ حضرت مصلح موعود نے اس نمبر کیلئے مندرجہ بالا عنوان سے یہ مضمون تحریر فرمایا اور بحیثیت انسان اسوۂ رسول کو اُجاگر کیا۔ عنوان کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:- بظاہر یہ ایک عجیب بات معلوم دیتی ہے کہ وہ شخص جسے انبیاء کے سردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اسے ایک انسان کی حیثیت میں بھی پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہو لیکن حق یہ ہے کہ باوجود نبوت کے دعوی کے کوئی شخص اس سے بالا نہیں ہو سکتا کہ اس کی انسانیت پر بحث کی جائے کیونکہ نبوت کمالات انسانی میں سے ایک کمال ہے اور انسانیت ہی کے کمالات کے ظہور کیلئے اس کا وجود پیدا کیا گیا ہے۔" حضور نے وضاحت فرمائی کہ کامل نبی کا کامل انسان ہونا ضروری ہے جب تک انسانیت کے تمام لطیف خواص کسی انسان میں صحیح طور پر نشو و نمانہ پائیں وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جس طرح آپ