انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxvi of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxvi

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۷ پیش نظر اس مضمون میں یہی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ قرآن کریم میں نبی کے چار کام بیان کئے گئے ہیں۔ 1- اللہ تعالیٰ کی آیات کا سنانا ۲- کتاب کا سکھانا تعارف کتب ۳- حکمت کی باتوں کی تعلیم دینا ۴۔ لوگوں کے نفوس کو پاک کرنا نبی کریم اللہ نے یہ چاروں کام باحسن طریق سرانجام دئے۔ آیات سنانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی ایسی باتیں لوگوں کو بتاتا ہے جو امور غیبیہ پر ایمان لانے کا موجب ہوں۔ آنحضرت نے ہر ایک مخفی مسئلہ کو جس پر ایمان کی بنیاد تھی وہم اور شک کے بادلوں سے نکال کر چمکتے ہوئے سورج کی روشنی میں رکھ دیا۔ تاکہ ہر شخص اُسے اپنی عقل کی آنکھ سے دیکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے صحابہ کا خدا تعالی کی ہستی اس کی اعلیٰ صفات صفات ملائکہ رسالت اور بعث بَعْدَ الْمَوْتِ وغیرہ امور غیبیہ پر نہایت محکم یقین تھا۔ اسی طرح آپ نے تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیۂ نفس کے کام بھی نہایت اعلیٰ طور پر پورے کئے۔ آپ کے زمانہ کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔ غرض ہر ایک عیب اُس وقت موجود تھا اور اس کے مقابل ہر ایک نیکی مفقود تھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی مٹ گیا تھا اور اس کے ارتکاب پر بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے فخر کیا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں پیدا ہو کر رسول کریم ﷺ نے اس قوم کو اپنی تربیت کیلئے چنا جو اس تاریک زمانہ میں بھی سب قوموں سے گناہ اور بدی میں بڑھی ہوئی تھی۔ نظام حکومت اس کے اندر اس قدر مفقود تھا کہ اسے سب سے زیادہ فخر اپنی لا مرکزیت پر تھا۔ اس قوم کے اندر اپنی پاکیزگی کی روح آپ نے پھونکنی شروع کی آپ نے اپنے نیک نمونہ سے اور مؤثر وعظ سے دنیا کی اصلاح کا کام جاری رکھا۔ یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ پاکیزگی اور طہارت کی خوبی کے دل قائل ہو گئے۔ روحانی مُردوں نے اپنے اندر ایک نئی روح سوئے ہوؤں نے تمازت آفتاب، بیماروں نے صحت کے آثار اور کمزوروں نے ایک طاقت کی لہر اپنے اندر محسوس کرنی شروع کی۔ دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔ جہاں ظلم اور تعدی کی حکومت تھی وہاں عدل اور انصاف کا دور دورہ