انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxiii

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۴ تعارف کتب پر غور کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد آپ نے ضرورتِ قرآن، نزول قرآن، حفاظت قرآن وغیرہ چوالیس امور بیان فرمائے کہ جن پر غور و فکر اور بحث کرنا اشد ضروری ہے جو آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ کسی وقت کی جائے گی۔ حضور نے مستشرقین یورپ کے اس اعتراض کا کہ قرآن مجید ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہ ہوا کا تفصیل سے جواب دیا۔ اسی طرح کئی دوسرے اعتراضات کو بھی آپ نے بڑے بدلائل ادا کیا۔ آخر میں حضور نے محکم اور متشابہ آیات کے بارہ میں بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔ (٢) لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ کی تفسیر حضور نے یہ تقریر ۱۴ جنوری ۱۹۲۹ء کو مسجد احمد یہ لاہور میں فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر یہ سوال کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں خدا تعالی فرماتا ہے لا يَمَسُّه إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ که قرآن کو پاک اور مطہر لوگ ہی چھوئیں گے دوسرے لوگ اس تک پہنچ نہیں سکیں گے۔ مگر ہم تو دیکھتے ہیں دنیا میں گندے سے گندے لوگ قرآن کریم کو ہاتھ لگا لیتے ہیں اور طہارت کا خیال نہیں رکھتے۔ حضور نے فرمایا کہ چونکہ یہ سوال میری تقریر سے متعلق نہیں تھا اس لئے میں نے جلسہ پر اس کا جواب نہ دیا اب اس موقع پر احباب کے فائدہ کیلئے اس آیت کا مفہوم بیان کر دیتا ہوں۔ فرمایا کہ بعض لوگوں نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں کہ کوئی ناپاک انسان قرآن کریم کو چھو نہیں سکتا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ کوئی ناپاک انسان قرآن مجید کو نہ چھوئے۔ یعنی یہ ایک حکم ہے کہ قرآن مجید کو باوضو ہو کر ہاتھ لگایا جائے۔ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ گناہ گار ہے۔ حضور نے فرمایا کہ سیاق و سباق کے لحاظ سے یہ مفہوم درست نہیں۔ علاوہ ازیں صحابہ میں بھی اس بارہ میں اختلاف ہے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حائضہ عورت قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہے۔ کئی دیگر آئمہ نے بھی اس کی اجازت دی ہے۔ اس کے بعد حضور نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم کے مطابق اس آیت کی بہت لطیف تفسیر فرمائی ہے اور تفصیل سے اس کے کئی پہلو بیان فرمائے ہیں جن سے انسان کا ذہن مطمئن ہو جاتا ہے۔ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں ایک مفہوم درج کیا جاتا ہے۔ حضور فرماتے ہیں:- اوم