انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxii

انوار العلوم جلد 10 ۲۳ ”اے میرے دوستو! بھائیو اور عزیزو! ہماری دعا ہمارے دلوں سے نکلے۔ خدا تعالیٰ پر یقین اور ایمان رکھتے ہوئے نکلے تاکہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہو ہمارے لئے بابرکت ہو اور ہماری کوششیں اور محنتیں ضائع نہ ہوں۔" (۱۵) فضائل القرآن (۱) تعارف کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم فرزند کی خوشخبری دی تو پیشگوئی میں یہ بیان کیا گیا کہ وہ فرزند دلبند علوم ظاہری اور باطنی سے پُر کیا جائے جائے گا۔ اور اس پی اس کے آنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو" حضرت مصلح موعود کی ساری زندگی اس مقصد کو پورا کرتے ہوئے گزری اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی علم دیا اور آپ نے اسے کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر کرنے میں پوری تندہی سے صرف کیا۔ تفسیر کبیر، تفسیر کبیر، فضائل قرآن اور بے شمار تقاریر اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ۱۹۲۸ء کے جلسہ سالانہ پر حضور نے فضائل القرآن کے موضوع پر عظیم الشان تقاریر کا ایک سلسلہ شروع فرمایا جو کئی سال تک چلتا رہا۔ اس سلسلہ کی چھٹی اور آخری تقریر حضور نے ۲۸ دسمبر ۱۹۳۶ء کو فرمائی۔ ان تقاریر میں آپ نے قرآن شریف کے علوم و معارف اور انوار و محاسن کچھ اس انداز میں بیان فرمائے ہیں کہ پڑھنے والے پر قرآنی فضیلت آشکار ہو جاتی ہے اور وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ اس جلد میں صرف پہلی تقریر شامل ہے جو حضور نے ۲۸ دسمبر ۱۹۲۸ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان میں فرمائی۔ اس تقریر میں آپ نے مختصر طور پر اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ قرآن مجید پڑھنے اور اس کے مطالب عالیہ کو سمجھنے کیلئے کن امور پر غور کرنا ضروری ہے۔ اور یہ کہ مستشرقین یورپ اور دوسرے غیر مسلم اسلام اور قرآن کریم کے خلاف کیا کوششیں کر رہے ہیں جبکہ اکثر مسلمان اس طرف سے غافل اور لاپرواہ بیٹھے ہیں۔ حضور نے فرمایا کہ آپ کے نزدیک قرآن کریم پر مجموعی نظر ڈالنے کیلئے درج ذیل امور