انوارالعلوم (جلد 10) — Page xxxi
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۲ تعارف کتب لیڈروں نے اسے سراہا اور تعریفی خطوط لکھے۔ نیز شکریہ ادا کیا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے نہایت اہم ضرورت کے وقت مسلمانوں کی دستگیری کی ہے۔ حضور کی اس کتاب نے نہرو رپورٹ" کا طلسم توڑ دیا اور مسلمان عوام اور ان کے لیڈروں کو صاف نظر آگیا کہ اس رپورٹ کے پوشیدہ مقاصد کیا ہیں۔ دراصل ہندو اس دستور کے ذریعہ مسلمانوں کو حقوق سے محروم رکھ کر خود اُن پر ہمیشہ کیلئے حکومت کرنا چاہتے تھے۔ حضور کے بیان فرمودہ ولائل اور وضاحت سے مسلمان لیڈروں کی آنکھیں کھل گئیں اور اُن کی غالب اکثریت نہرو رپورٹ کے خلاف ہو گئی یہاں تک کہ مسٹر محمد علی جناح جو پہلے اس کے حق میں تھے وہ بھی آخر اس کے مخالف بن گئے۔ چنانچہ ۳۰ مارچ ۱۹۲۹ء کو روشن تھیٹر دہلی کے اجلاس زیر صدارت جناب (محمد علی جناح صاحب مسلم لیگ نے فیصلہ کیا کہ وہ نہرورپورٹ منظور کرنے سے قاصر ہے۔ (حیات محمد علی جناح" صفحہ ۱۸۳) اس طرح حضور کی مساعی بفضل خدا کامیاب ہوئی اور مسلمان ہندوؤں کے جال میں پھننے سے بچ گئے اور اپنے مطالبات پر مضبوطی سے قائم ہو گئے اور اس طرح حصول پاکستان کی راہ ہموار ہوئی۔ (۱۴) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۲۶ دسمبر ۱۹۲۸ء حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بیماری اور نقاہت کی وجہ سے اس موقع پر لمبی تقریر نہ فرماسکے۔ حضور نے مختصر طور پر احباب جماعت کو خلوص دل سے دعائیں کرنے کی تلقین فرمائی۔ آپ نے فرمایا : ” میری غرض اس وقت یہاں آنے سے صرف یہ ہے کہ میں دعا کے ساتھ اس جلسہ کا افتتاح کروں۔ میں اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہوں کہ اُس نے مجھے آج اس موقع پر یہاں آنے کی توفیق دی ورنہ پرسوں شام تک میں امید نہیں کرتا تھا کہ آکر جلسہ کا افتتاح کر سکوں گا۔" حضور نے دوستوں کو توجہ دلائی کہ ہماری دعائیں حقیقی دعائیں ہونی چاہئیں۔ آپ درد بھرے الفاظ میں فرماتے ہیں:-