انوارالعلوم (جلد 10) — Page 264
انوار العلوم جلد ۱۰ とこ دنیا کا محسن مخالفوں کو مار دیا ہے۔ اس پر رسول صلی اللہ جو ابھی فرما چکے تھے کہ خاموش رہو اور کوئی جواب نہ دو کیونکہ مصلحت اس میں تھی۔ بہت سے مسلمان زخمی تھے اور خطرہ تھا کہ کفار پھر لوٹ کر ان پر حملہ آور نہ ہوں فرمانے لگے کہ جواب کیوں نہیں دیتے ۔ کہو ۔ الله اعلیٰ وَاَجَلٌ - اللَّهُ أَعْلَى وَ أَجَلٌ - اللہ اللہ ہی عزت والا اور شان والا ہے۔ اللہ ہی عزت والا اور شان والا ہے۔ اب دیکھو کہ باوجود ایسے نازک موقع کے کہ بہت کثرت سے مسلمان زخمی پڑے تھے۔ اور بظاہر مسلمانوں کو شکست ہو گئی تھی۔ آپ نے خدا تعالیٰ کی توحید پر حرف آتے دیکھ کر خاموش رہنے کو پسند نہ کیا۔ حالانکہ اپنی موت کی خبر کی تردید نہ کرنے دی۔ اس وقت بولنے کا صرف یہی نتیجہ نظر آتا تھا کہ دشمن حملہ کر کے سب کو مار ڈالے۔ مگر جب آپ نے ، آپ نے خدا تعالیٰ کی تحقیر سنی تو فور اجواب دینے کا ارشاد فرمایا ۔ الله تیسرا ثبوت آپ کی تقدیس کا وہ پھل ہیں جو رسول کریم میں ہم کے پیدا کردہ پھل آپ نے پیدا کئے اور اس کے لئے ہیں صل ابوبکر حضرت ابو بکر ۔ حضرت عمرؓ ۔ حضرت عثمان اور حضرت علی کو پیش کرتا ہوں۔ متعصب سے متعصب عیسائی جو رسول کریم ملی پر ناپاک سے ناپاک حملے کرتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں۔ ابو کا اور عمر بہت اچھے انسان تھے۔ وجہ یہ کہ انہوں نے دنیا کے لئے اتنی قربانیاں کی ہیں کہ دشمن بھی ان کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر جب دشمن یہ مانتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر بہت اعلیٰ انسان تھے۔ جنہوں نے دنیا کو بے شمار فوائد پہنچائے تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسے مفید وجود جو نَعُوذُ بِالله ایک ٹھگ اور عیاش نے پیدا کر دیئے ۔ وہ شخص جس کی نظر دو سروں کے مال پر ہو۔ وہ کہاں ایسے انسان پیدا کر سکتا ہے۔ جو اپنا مال بھی خدا کی راہ میں لٹا دیں۔ ٹھگوں سے ٹھگ ہی پیدا ہوتے ہیں اور عیاشوں سے عیاش ہی بنتے ہیں۔ کبھی ٹھگوں سے نیک اور عیاشوں سے متقی نہیں بنائے جا سکتے ۔ یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ یہ لوگ جن کے تقوی ، جن کی دیانت، جن کے ایثار ، جن کی سادگی اور جن کی قومی غمخواری کی تمام دنیا قائل اور مقر ہے رسول کریم مسلم کی صحبت : صحبت میں ہر وقت رہنے کے بعد اگر نَعُوذُ بِالله یہ صفات آپ میں ان لوگ ہزاروں گنے زیادہ نہیں پائی جاتی تھیں تو ان اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے ظاہر کرنے والے ہوتے اور پھر یہ دعوی کرتے کہ یہ اخلاق ان کو رسول کریم ملی ایم کے سمندر میں سے ایک قطرہ کے برابر ملے ہیں۔ الله لوگوں سے