انوارالعلوم (جلد 10) — Page 263
انوار العلوم جلد ۱۰ ۳۶۳ دنیا کا محسن تھا۔ گویا انہوں نے اپنی جان قربان کر دی۔ مگر صحابہ کو باہر بھیجنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ اس لئے کہ ان کو محمد مسلم نے جمع کیا تھا۔ کیا یہ ادب اور یہ احترام اس شخص کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے جس نے ساری عمر رسول کریم میں ہم کے ساتھ رہ کر آپ کی کوئی ٹھگی دیکھی ہو۔ حضرت علی چونکہ آپ کے عزیز ترین رشتہ رشتہ دار تھے اور ان کی حضرت علی کی شہادت ساری زندگی ہی آپ کی صداقت کی شہادت میں پیش کی جاسکتی ہے۔ اس لئے ان کے کسی خاص واقعہ کو بیان کرنا میں ضروری نہیں سمجھتا۔ یاد رکھو۔ شہادت اس وقت کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ پس آ۔ پس آپ کی بیوی کی شہادت کا نتیجہ شہادت پیش کی گئی کہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ تھے۔ پھر آپ کے دوستوں، دشمنوں کی شہادت پیش کی گئی ہے۔ پھر وفات کے بعد کے زمانہ کے متعلق شہادت پیش کی گئی ہے۔ پھر کیا یہ ہو سکتا ہے کہ موقع کے لوگوں کی گواہی تو قابل اعتبار نہ سمجھی جائے۔ اور بعد کے لوگ جو کہیں اسے درست مان لیا جائے۔ موقع ہی کی گواہی اصل گواہی ہوتی ہے۔ اور موقع کے دوست دشمن سب کہتے ہیں کہ محمد میں یہ مقدس وجود تھے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ بعد میں آنے والے لوگ آپ کو مقدس نہ کہیں۔ دوسرا ثبوت آپ کے تقدس کا وہ غیرت ہے جو آپ خدا تعالیٰ خدا تعالیٰ کے لئے غیرت کے متعلق رکھتے تھے۔ ایک مشہور واقعہ ہے جس سے پتہ لگا الله ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے کس قدر غیرت تھی۔ جب احد کی لڑائی ہوئی تو اس میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے۔ خود رسول کریم میں یہ بھی زخمی ہو گئے اور دشمنوں نے سمجھا کہ آپ کو انہوں نے مار ڈالا ہے۔ یہ سمجھ کر مکہ کے ایک سردار نے میدان جنگ میں بلند آواز سے کہا بتاؤ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کہاں ہے ۔ آپ نے فرمایا کوئی جواب نہ دو۔ کوئی جواب نہ پا کر اس نے کہا ہم نے محمد کو مار دیا ہے۔ پھر اس نے کہا ابو بکر کہاں ہے۔ رسول کریم م نے فرمایا۔ کوئی نہ بولو۔ اس نے کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا ہے۔ پھر اس نے کہا عمر کہاں ہے۔ حضرت عمر جوش سے بولنے لگے کہ میں تمہاری خبر لینے کے ۔ کے لئے موجود ہوں د ہوں مگر آپ نے انہیں روکا کہ جواب مت دو اس پر اس نے کہا ہم نے عمر کو بھی مار دیا ہے۔ پھر اس نے کہا أَعْلُ هُبَلَ - أَعْلُ هُبَل - مُبَلْ (جو مکہ کا ایک بت تھا) کی شان بلند ہو ۔ کیونکہ ہم نے بتوں کے XXXXX