انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 262

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۶۲ دنیا کا محسن کریم میں کے بھیجے ہوئے لشکر کو نہیں روکوں گا۔ لاء اس واقعہ کو سن کر کوئی کہہ سکتا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہو تاکہ بانی اسلام اپنے دعویٰ میں بچے تھے ۔ ہم بھی کہتے ہیں۔ بے شک صرف اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا مگر اس سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا تا ۔ ہے کہ وہ نہایت راستباز اور متقی انسان تھے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے قول کا پاس ان کے شاگردوں کو غیر معمولی حد تک تھا۔ حضرت عمر کی شہادت ہوں اور وہ دوسری شهادت آر آپ کے دوسرے خلیفہ کی پیش کرتا ہوں ! ت بھی موت کے وقت کی۔ جب حضرت عمر ال فوت الله عنه ت ہونے لگے تو انہوں نے اس بات کے لئے بڑی تڑپ ظاہر کی کہ آپ کو رسول کریم میں کے قدموں میں دفن ہونے کی جگہ مل جائے۔ چنانچہ انہوں نے حضرت عائشہ ا سے کہلا بھیجا که اگر اجازه اجازت دیں تو مجھے آپ کے پہلو میں دفن کیا جائے ۔ " الله حضرت عمر وہ انسان تھے جن کے متعلق عیسائی مورخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اور کسی نے نہیں کی۔ وہ رسول کریم ملی کو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عمر ان کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم میں اللہ کے قدموں میں اسے جگہ مل جائے۔ اگر رسول کریم میں کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمر جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپ کے قدموں میں جگہ پائے۔ تیسری شہادت میں آپ کے تیسرے خلیفہ کی پیش کرتا ہوں۔ حضرت عثمان کی شہادت جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس قدر آپ کی عزت و احترام ان کی نظر میں تھا۔ حضرت عثمان کے زمانہ میں بغاوت ہو گئی اور باغیوں نے یہ منصوبہ کیا کہ ان کو مار دیں۔ اس وقت حضرت معاویہ ان کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ باغیوں کا خیال ہے کہ آپ کو مار کر کسی اور صحابی کو خلیفہ بنالیں گے۔ اس لئے آپ بڑے بڑے صحابہ کو باہر بھیج دیں۔ مگر اس وقت جب کہ بغاوت پھیل رہی تھی اور حضرت عثمان کو اپنی جان کا خطرہ تھا ۔ انہوں نے کہا۔ اے معاویہ ! یہ کس طرح مجھ سے امید کی جا سکتی ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے ان لوگوں کو مدینہ سے باہر بھیج دوں۔ جنہیں محمد میں ہم نے جمع کیا