انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 261

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۶۱ دنیا کا محسن بیویوں میں سے ایک ہیں۔ کسی کی دو بیویاں ہوں تو اس کے متعلق شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ مگر آپ کی 4 بیویاں تھیں اور بڑھاپے کی عمر کی تھیں۔ اور وہ بیویاں تھیں جن کو کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہ ملا تھا۔ مگر کسی نے حضرت عائشہ ا سے جب پوچھا۔ رسول کریم کے خلق کے متعلق تو کچھ بتائیے۔ تو انہوں نے کہا كَانَ خُلُقَهُ الْقُرْآنُ للہ قرآن میں جن اخلاق حمیدہ کا ذکر ہے۔ وہ سارے کے سارے آپ میں پائے جاتے تھے۔ حضرت عائشہ ان کی محبت کا یہ حال تھا کہ کسی نے انہیں دیکھا کہ روٹی کھا رہی ہیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ پوچھا یہ کیا۔ آپ کیوں رو رہی ہیں۔ تو کہا کیوں نہ رؤوں۔ رسول کریم میم فوت ہو گئے مگر کبھی چھنے آٹے کی روٹی میں پکا کر ان کو نہ کھلا سکی اب جو میں ایسی روٹی کھا رہی ہوں تو میرے گلے میں پھنس رہی ہے اس وقت اگر رسول کریم میں ایم ہوتے تو میں انہیں یہ روٹی کھلاتی۔ کسی کو جب ذرا آرام مل جاتا ہے تو وہ اپنے پیارے سے پیارے عزیزوں کو بھول جاتا ہے۔ مگر حضرت عائشہ ان جو نوجوانی میں بیوہ ہو گئی تھیں۔ جنہیں کوئی دنیاوی آرام رسول کریم میم کی زندگی میں حاصل نہ ہوا تھا وہ آپ کے اخلاق کی ایسی معتقد ہیں کہ جب انہیں اچھی چیز ملتی ہے تو کہتی ہیں کاش رسول کریم ملی اہم ہوتے تو میں انہیں کھلاتی۔ پھر میں آپ کے خلفاء کی شہادت کو لیتا ہوں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ خلفاء کی شہادتیں جب کوئی کسی کا قائم قائم مقام بنتا ہے تو اس کی مذمت کرتا ہے تا کہ اپنی عزت قائم کرے۔ سوائے اس کے جس سے خاص روحانی اور اخلاقی تعلقات ہوں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ان جو رسول کریم میں حضرت ابو بکر کی شہادت کے پہلے خلیفہ ہوئے۔ جب ان کے وقت میں سارے عرب میں بغاوت ہو گئی اور لوگوں نے کہہ دیا ہم ٹیکس نہیں دیں گے۔ تو آپ کو مشورہ دیا گیا کہ ان لوگوں سے مقابلہ پیش آگیا ہے اس لئے ۔ لئے رسول کریم میں ہم نے وفات سے قبل جو لشکر روانہ کیا تھا اسے روک لیا جائے۔ پہلے بغاوت کو فرو کر لیا جائے اور پھر لشکر کو بھیجا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر ان کے دل میں رسول کریم مسلم کی اتنی عظمت تھی کہ اپنے باپ کا نام لے کر کہنے لگے۔ کیا ابن ابی قحافہ کی یہ طاقت ہے کہ رسول کریم میں کے بھیجے ہوئے لشکر کو روک لے۔ خدا کی قسم ! اگر دشمن مدینہ میں آکر ہماری عورتوں کو گھٹنے لگے تو بھی میں رسول