انوارالعلوم (جلد 10) — Page xii
انوار العلوم جلد ۱۰ تعارف کتب سے مل کر حالات کا جائزہ لیں اور رپورٹ کریں کہ ہندوستانیوں کو کہاں تک اختیارات حکومت دیئے جاسکتے ہیں۔ اس رپورٹ کی روشنی میں چیمسفورڈ ریفارم سکیم تیار ہو کر قانون کی صورت میں منظور ہوئی اور ۱۹۱۸ء میں ہندوستان میں نافذ کی گئی۔ اس سکیم کے مطابق حکومت برطانیہ نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر دس سال کے بعد ایک کمیشن ہندوستان بھیجا جایا کرے جو حالات کا جائزہ لے کر رپورٹ کرے کہ کیا ہندوستان مزید حقوق حاصل کرنے کے قابل ہو گیا ہے کہ نہیں۔ چنانچہ ۱۹۲۷ء کے آخر میں برطانوی حکومت کی طرف سے ایک کمیشن بھجوانے کا اعلان ہوا جس کے صدر انگلستان کے نہایت زیرک اور ہوشیار بیرسٹر سر جان سائمن مقرر ہوئے۔ انہی کے نام پر یہ کمیشن ” سائمن کمیشن" کہلایا۔ اس کمیشن میں کسی ہندوستانی کو بطور ممبر نامزد نہیں کیا گیا تھا اس لئے کانگرس اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔ مسلمانوں کے بڑے بڑے سیاست دان جیسے مسٹر محمد علی جناح صاحب اور مولانا محمد علی جوہر صاحب بھی بائیکاٹ کے حامی بن گئے۔ حضور نے ان سے ملاقات کرکے اپنا نکتہ نظر بتایا کہ اس موقع پر بائیکاٹ مناسب نہیں اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔ لیکن یہ حضرات قائل نہ ہوئے۔ حضوران اصحاب کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے مگر اس اقدام سے چونکہ مسلمانوں کے اقتصادی اور سیاسی مفادات خطرہ میں پڑتے تھے اس لئے آپ نے بروقت انتباہ کیلئے ۸ دسمبر ۱۹۲۷ء کو ”مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت" کے عنوان سے یہ رسالہ تحریر فرمایا اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اس کمیشن کا بائیکاٹ کرنے سے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچے گا۔ آپ نے فرمایا:- بائیکاٹ کا اثر زیادہ تر مسلمانوں پر پڑے گا اور ہندوؤں پر بہت ہی کم پڑے گا۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سے ریفارم سکیم منظور ہوتی ہے ہندواس امر کو سمجھ چکے ہیں کہ ہندوستان کا مستقبل انگریز قوم سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے لیڈر برابر آٹھ سال سے گرمیوں میں انگلستان جاتے ہیں اور بڑے بڑے انگریزوں، ہندوؤں کے فائدہ کی باتیں کر کر کے انہیں اپنا ہم خیال بنا چکے ہیں۔ اسی طرح وہ کوشش کر کے پارلیمنٹ کے ممبروں کو ہندوستان لاتے ہیں اور ہندوؤں کے گھر مہمان ٹھراتے ہیں اور ہر وقت ان کے کان ان باتوں سے بھرتے ہیں جو ہندوؤں کے حق میں مفید ہیں اور مسلمانوں کیلئے