انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiii of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xiii

انوار العلوم جلد 10 نقصان دہ۔ مگر مسلمانوں کے پاس نہ دولت ہے اور نہ ان کے اندر قربانی کا ماده چناچہ وہ اس آٹھ سال کے عرصہ میں بالکل سوتے رہے ہیں۔ اور صرف اس سال عزیزم چوہدی ظفر اللہ خان صاحب احمدی بیرسٹر لاہور ممبر پنجاب کو نسل اور ڈاکٹر شفاعت احمد صاحب بیرسٹر ممبر یو پی کو نسل اس غرض سے ولایت گئے تھے اور انہیں کئی بڑے بڑے آدمیوں نے کہا کہ ہمیں تو آج ہی معلوم ہوا ہے کہ مسلمانوں کے حقوق کی جداگانہ حفاظت کی ضرورت ہے ورنہ ہم تو یہ خیال کرتے تھے کہ ہندو لیڈر جو باتیں کہتے رہے ہیں مسلمان ان سے متفق ہیں ورنہ مسلمان کیوں نہ آکر ہم سے اپنے حقوق کے متعلق بات کرتے۔“ تعارف کتب اس رسالہ میں حضور نے راہنمائی کی خاطر مسلمانوں کے اہم مطالبات اور ان کی افادیت و ضرورت کا ذکر فرمایا ہے جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:- انگریزوں کے نزدیک اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کا مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ وہاں پارٹیوں کی بنیاد سیاسی خیالات پر ہوتی ہے جو بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں پارٹیوں کی بنیاد مذہب ہے اور اس میں تبدیلی بہت ہی کم آتی ہے۔ اس فرق کو کمیشن پر واضح کرنا چاہیے تاکہ انکا تعصب کم ہو۔ ہندو اونی اقوام کو حقوق تو کوئی نہیں دیتے تاہم انہیں ہندو قرار دے کر ان کے ووٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ انہیں اُبھاریں۔ ان کا معاملہ کمیشن کے سامنے پیش کریں اور اس طرح ان کا تعاون حاصل کریں۔ -- ہندوستان کے موجودہ حالات کے لحاظ سے مسلمانوں کیلئے جدا گانہ انتخاب کی سخت ضرورت ہے۔ اسے قانون اس میں داخل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ۴ پنجاب اور بنگال جو آئندہ مسلم اکثریت کے صوبے بنیں گے ان میں مسلمانوں کو اس قدر حقوق ضرور ملنے چاہئیں کہ ان کی کثرت قلت میں نہ بدل سکے۔ صوبہ سرحد میں اصلاحی طریق حکومت کیلئے کوشش ہونی چاہیئے اور سندھ کے متعلق یہ کوشش ہو کہ وہ بمبئی سے الگ ایک مستقل صوبہ بن جائے۔