انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page xi

انوار العلوم جلد 10 ۲ تعارف کتب حضور نے ذمہ داریوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کو اپنے اندر استقلال، ادب خدمت خلق خواہش مقابلہ صفائی پابندی وقت، جفاکشی، رواداری، قومی نظام قومی آزادی اور تبلیغی روح پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مسلمان ترقی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مشترکہ امور میں متحد ہو کر ایک ہو جانا چاہئیے اور باہمی اختلاف کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ اس زریں اصول کو اُجاگر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔ پس ہم کو ایسے معاملات میں بلا خیال فرقہ کے ایک ہو جانا چاہیے تاکہ ہمارے مطالبہ میں قوت اور اثر پیدا ہو۔ یدا ہو۔ سنی کو سب سے : زیادہ پھر شیعہ کو پھر ہم کو پھر اہل حدیث کو جب کو جب تک با وجود اختلاف کے مل کر نہ رہیں گے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ اختلاف مٹا نہیں کرتا۔ انحضرت ملی جیسے رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ وجود کے آنے پر بھی اختلاف رہا اس لئے کہ وہ طبعی چیز ہے۔ صحابہ " میں بعض مسائل میں اختلاف ہوتا۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسے عظیم الشان صحابہ میں بھی اختلاف ہوا مگر وہ فوراً صاف دل ہو گئے۔ اس لئے اختلاف سے گھبرانا نہیں چاہئیے۔ یہ اختلاف علماء ، صلحاء اور اولیاء میں ہوتے رہے اس کی پرواہ نہ کرو۔ آنحضرت میں ہم نے جب اِخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ فرمادیا تو اس سے ڈرنا اور گھبرانا کیوں؟ اختلاف کو رحمت بناؤ نہ کہ لعنت۔ اب میں بتاتا ہوں کہ یہ اختلاف رحمت کیوں ہے؟ دیکھو اگر سائنس دانوں میں اختلاف نہ ہوتا تو یہ ایجادات جو آئے دن ہو رہی ہیں اور جن سے ملک اور قوم کو نفع پہنچتا ہے کیونکر ہوتیں۔ اسی اصول پر اگر امت میں رہ کر اختلاف کریں تو رحمت کا موجب ہوگا۔ اس نکتہ کو سمجھ لو۔ اگر تم باوجود اختلاف کے اتحاد کرو گے تو کیوں رحمت نہ ہوگا۔ ९९ (۲) مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت ۱۹۱۷ء میں حکومت برطانیہ کے وزیر ہند اس غرض سے ہندوستان آئے کہ وائسرائے ہند