آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 83
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 83 باب اول صلی اللہ علیہ وسلم محفوظ نہیں جن لوگوں کے یہ عقائد ہوں اُن کے ہاتھ سے جس قدر دین اسلام کو اس زمانہ میں نقصان پہنچ رہا ہے کون اس کا اندازہ کر سکتا ہے یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں چاہئے کہ ہر ایک مسلمان اور سچا عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پر ہیز کرے سلف صالح کو سراسر شرارت کی راہ سے اپنے اقوال مردودہ کے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اپنی نابینائی کی وجہ سے سلف صالح کے اقوال کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ احادیث نبویہ کی اصل حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں صرف دھوکہ دینے کی راہ سے کہتے ہیں کہ اگر ہمارا یہ حال ہے تو یہی عقیدہ سلف صالح کا ہے۔اے نادانو ا یہ سلف صالح کا ہر گز طریقہ نہیں۔اگر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ اعتقادر کھتے کہ کبھی یا مدتوں تک آپ سے روح القدس جدا بھی ہو جاتا تھا تو وہ ہرگز ہر یک وقت اور ہر یک زمانہ کی احادیث کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ نہ کرتے ان کی نظر تو اس آیت بھی۔وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إن هو إلا وحي يوحى (النجم :۵۴) پر۔اگر صحابہ تمہاری طرح مس شیطان کا اعتقاد رکھتے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کے - سيد المعصومین کیوں قرار دیتے خدا تعالیٰ سے ڈرو کیوں افتر اپر کمر باندھی ہے۔مصطفی را چون فروتر شد مقام از مسیح ناصری اے طفیل خام آنکه دست پاک او دست خداست چون توان گفتن که از روحش جداست آنکه هر کردار و قولش دین ماست یکدم از جبریل بعدش چون رواست امام انبیاء ایس افترا چون نمی ترسید از قهر خدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل خفی ہو یا جلی۔بین ہو یا مشتبہ یہاں تک کہ جو کچھ آنحضرت صلعم کے خاص معاملات و مکالمات خلوت اور ستر میں بیویوں سے تھے یا جس قد را کل اور شرب اور لباس کے متعلق اور معاشرت کی ضروریات میں روز مرہ کے خانگی امور تھے سب اسی خیال سے احادیث میں داخل کئے گئے کہ وہ تمام کام اور کلام روح