آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 84 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 84

محضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 84 باب اول القدس کی روشنی سے ہیں چنانچہ ابو داؤد وغیرہ میں یہ حدیث موجود ہے اور امام احمد بیچند وسائط عبد اللہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ نے کہا کہ میں جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتا تھا لکھ لیتا تھا نا میں اُس کو حفظ کرلوں۔پس بعض نے مجھ کو منع کیا کہ ایسا مت کر کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں بھی غضب سے بھی کلام کرتے ہیں تو میں یہ بات سن کر لکھنے سے دستکش ہو گیا۔اور اس بات کا رسول اللہ صلم کے پاس ذکر کیا۔تو آپ نے فرمایا کہ اُس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو مجھ سے صادر ہوتا ہے خواہ قول ہو یا فعل وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن نمبر جلد ۵ صفحه ۱۱۰تا ۱۱۳) ایک کبوتر پالا تھا تا لوگ روح القدس سمجھیں الله ایک پادری نے آنحضور ﷺ پر یہ الزام لگایا کہ آپ نے ایک کبوتر پالا ہوا تھا نا لوگ سمجھیں کہ یہ روح القدس ہے جو وحی پہنچاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کے رد میں تحریر فرماتے ہیں کہ:۔”اے پیارے دوستو! آپ لوگ اس قوم کو اور اس قوم کی جعلسازیوں کو خوب جانتے ہو کہ کہاں تک ان لوگوں کو جھوٹ کی بندشوں میں کمال ہے۔پورت صاحب اپنی کتاب موید الاسلام میں پادریوں کی مکاریاں نمونہ کے طور پر لکھتے ہیں۔کہ ایک بزرگ پادری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح میں ایک کتاب لکھی اور اس میں ایک موقعہ پر بیان کیا کہ گویا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کبوتر بلایا ہوا تھا کہ وہ آنجناب کے کانوں پر آ کر اپنا مندر کھ دیتا تھا اور یہ حرکت اس لئے سکھلائی گئی تا لوگ سمجھیں کہ یہ روح القدس ہے کہ وحی پہنچاتا اور خدا تعالیٰ کا پیغام لاتا ہے۔مگر جب اس پادری کو لوگوں نے سخت پکڑا کہ یہ قصہ تو نے کہاں سے نقل کیا ہے تو اس نے صاف اقرار کیا کہ میں نے عمد اجھوٹ بنایا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس شریه پادری کو اس کبوتر کی نسبت شک ہوگا جو انجیل میں بیان کیا گیا ہے جو تمام عمر میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح پر نازل ہوا تھا۔اور پھر کبھی منہ نہ دکھلایا اور کہتے ہیں کہ دراصل وہ کبوتر نہیں تھا بلکہ روح القدس تھا۔خیر اس جھگڑے سے تو ہمیں کچھ علاقہ نہیں صرف یہ دکھلانا منظور ہے کہ اس