آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 82 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 82

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 82 باب اول ہیں اور اُن کے نزدیک اُن دنوں میں خوابوں کا سلسلہ بھی لگی بند تھا۔اب متصفو دیکھو کہ کیا ان دونوں شیخوں کی بے ادبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت انتہا کو پہنچ گئی یا نہیں وہ آفتاب صداقت جس کا کوئی دل کا خطرہ بھی بغیر وحی کی تحریک کے نہیں اُس کے بارے میں ان لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا وہ نعوذ باللہ مدتوں ظلمت میں بھی پڑا رہتا تھا اور اُس کے ساتھ کوئی روشنی نہ تھی۔اِس عاجز کو اپنے ذاتی تجربہ سے یہ معلوم ہے کہ رُوح القدس کی قد سمیت ہر وقت اور ہر دم اور ہر لحظہ بلافصل ملہم کے تمام تھو مٹی میں کام کرتی رہتی ہے اور وہ بغیر روح القدس اور اس کی تاثیر قدسیت کے ایک دم بھی اپنے تئیں ناپاکی سے بچا نہیں سکتا اور انوار دائمی اور استقامت دائمی اور محبت دائی اور عصمت دائمی اور برکات دائمی کا بھی سبب ہوتا ہے کہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے ساتھ ہوتا ہے پھرا امام المعصو مین اور امام المتبر کین اور سید المقربین کی نسبت کیونکر خیال کیا جائے کہ نعوذ باللہ کسی وقت ان تمام پر کتوں اور پاکیزگیوں اور روشنیوں سے خالی رہ جاتے تھے افسوس کہ یہ لوگ حضرت عیسی کی نسبت یہ اعتقا در رکھتے ہیں کہ تینتیس برس روح القدس ایک دم کے لئے بھی اُن سے جدا نہیں ہوا مگر اس جگہ اس قرب سے آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۹۰ تا ۹۴ حاشیه ) منکر ہیں۔نیز فرماتے ہیں کہ: ان مولویوں نے بات بات میں حضرت عیسی کو بڑھایا اور ہمارے سید ومولی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی غضب کی بات ہے کہ ان کا عقیدہ حضرت مسیح کی نسبت تو یہ ہو کہ کبھی روح القدس اُن سے جدا نہیں ہوتا تھا اور مس شیطان سے وہ بری تھے اور یہ دونوں باتیں انہیں کی خصوصیت تھی لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ان کا بیا عتقاد ہو کہ نہ روح القدس ہمیشہ اور ہر وقت اُن کے پاس رہا اور نہ وہ نعوذباللہ تھل کفر کفر نباشد مس شیطان سے بری تھے۔باوجود ان باتوں کے یہ لوگ مسلمان کہلا دیں ان کی نظر میں ہمارے سید و مولی محمد صلی اللہ علیہ وسلم مردہ مگر حضرت عیسی اب تک زندہ اور عیسی کے لئے رُوح القدس دائمی رفیق مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس نعمت سے بے بہرہ اور حضرت عیسیٰ میں شیطان سے محفوظ مگر ہمارے نبی