آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 81
انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 81 باب اول انسان کی رُوح پر رحم نہیں۔پس اس نص قطعی اور یقینی سے ثابت ہے کہ رُوح القدس یا یوں کہو کہ اندرونی نگہبانی کا فرشتہ ہمیشہ نیک انسان کے ساتھ ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس کی بیرونی حفاظت کیلئے رہتا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر ۵ صفحه ۵ ۷ تا ۷۸ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں مزید بیان فرماتے ہیں کہ: الغرض جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ بات نہایت احتیاط سیاپنے حافظہ میں رکھ لینی چاہئے کہ متقربوں کا روح القدس کی تاثیر سے علیحدہ ہونا ایک دم کے لئے بھی ممکن نہیں کیونکہ اُن کی نئی زندگی کی روح یہی روح القدس ہے پھر وہ اپنی روح سے کیونکر علیحدہ ہو سکتے ہیں۔اور جس علیحدگی کا ذکر احادیث اور بعض اشارات قرآن کریم میں پایا جاتا ہے اُس سے مراد صرف ایک قسم کی تجلی ہے کہ بعض اوقات بوجہ مصالح الہی اس قسم کی تجلی میں کبھی دیر ہو گئی ہے اور اصطلاح قرآن کریم میں اکثر نزول سے مراد وہی تجلی ہے ورنہ ذرہ سوچنا چاہئے کہ جس آفتاب صداقت کے حق میں یہ آیت ہے : وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُوحَى ( النجم ۵۰۴ ) یعنی اس کا کوئی تعلق اور کوئی کلمہ اپنے نفس اور ہوا کی طرف سے نہیں وہ تو سراسر وجی ہے جو اُس کے دل پر نازل ہو رہی ہے اس کی نسبت کیا ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ مدتوں نو روحی سے بکی خالی ہی رہ جاتا تھا۔مثلا یہ جو منقول ہے کہ بعض دفعہ چالیس دن اور بعض دفعہ میں دن اور بعض دفعہ اس سے زیادہ ساٹھ دن تک بھی وحی نازل نہیں ہوئی۔اگر اس عدم نزول سے یہ مر او ہے کہ فرشتہ جبرائیل لکھی آنحضرت مسلم کو اس عرصہ تک چھوڑ کر چلا گیا تو یہ بخت اعتراض پیش آئے گا کہ اس مدت تک جس قدر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کیں کیا وہ احادیث نبویہ میں داخل نہیں تھیں اور کیا وحی غیر متلو اُن کا نام نہیں تھا اور کیا اس عرصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی خواب بھی نہیں آتی تھی جو بلا شبہ وحی میں داخل ہے اور اگر حضرت بٹالوی صاحب اور میاں نذیر حسین دہلوی بچے ہیں اور یہ بات بیچ ہے کہ ضرور مدتوں جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھی چلا جاتا تھا اور آنحضرت بگھی وحی سے خالی رہ جاتے تھے تو بلاشبہ اُن دنوں کی احادیث ان دونوں حضرتوں کے نزدیک قابل اعتبار نہیں ہوں گی کیونکہ وحی کی روشنی سے خالی