آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 80 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 80

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 80 باب اول اور محدث اور شیخ الکل نام رکھا کر پھر جناب ختم المرسلین خیر الاولین والآخرین کی شان میں ایسی ایسی بدگمانی کرتے ہیں اور اس قدر سخت بد زبانی کر کے پھر خاصے مسلمان کے مسلمان اور دوسرے لوگ ان کی نظر میں کافر ہیں۔اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کریم میں اس بات کی کہاں تشریح یا اشارہ ہے کہ روح القدس مقربوں میں ہمیشہ رہتا ہے اور ان سے جدا نہیں ہونا تو اس کا یہ جواب ہے کہ سارا قرآن کریم ان تصریحات اور اشارات سے بھرا پڑا ہے بلکہ وہ ہر یک مومن کو روح القدس ملنے کا وعدہ دیتا ہے چنانچہ منجملہ ان آیات کے جو اس بارہ میں کھلے کھلے بیان سے ناطق ہیں۔سورۃ الطارق کی پہلی دو آیتیں ہیں اور وہ یہ ہیں وَالسَّمَاءِ وَ الصارِقِ وَمَا أَدْرَيكَ مَا الظَّارِقُ النجم الثاقب إن كُلُّ نَفير لما عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق ۳-۵) یہ آخری آیت یعنی إن كُل تغير لمَّا عَلَینا حافظ جس کے یہ معنی ہیں کہ ہر ایک نفس پر ایک فرشتہ نگہبان ہے یہ صاف دلالت کر رہی ہے کہ جیسا کہ انسان کے ظاہر وجود کیلئے فرشتہ مقرر ہے جو اُس سے جدا نہیں ہوتا ویسا ہی اس کے باطن کی حفاظت کیلئے بھی مقرر ہے جو باطن کو شیطان سے روکتا ہے اور گمراہی کی ظلمت سے بچاتا ہے اور وہ رُوح القدس ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں پر شیطان کا تسلط ہونے نہیں دیتا اور اسی کی طرف یہ آیت بھی اشارہ کرتی ہے کہ ال عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن المجر (۴۳) اب دیکھو کہ یہ آیت کیسے صریح طور پر بتلا رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ انسان کی حفاظت کیلئے ہمیشہ اور ہر دم اس کے ساتھ رہتا ہے اور ایک دم بھی اس سے جدا نہیں ہوتا۔کیا اس جگہ یہ خیال آ سکتا ہے کہ انسان کے ظاہر کی نگہبانی کیلئے تو دائی طور پر فرشتہ مقرر ہے لیکن اس کی باطن کی نگہبانی کیلئے کوئی فرشتہ دائمی طور پر مقرر نہیں بلکہ متعصب سے متعصب انسان سمجھ سکتا ہے کہ باطن کی حفاظت اور روح کی نگہبانی جسم کی حفاظت سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ جسم کی آفت تو اسی جہان کا ایک دکھ ہے لیکن روح اور نفس کی آفت جہنم ابدی میں ڈالنے والی چیز ہے سو جس خدائے رحیم و کریم کو انسان کے اس جسم پر بھی رحم ہے جو آج ہے اور کل خاک ہو جائے گا اس کی نسبت کیونکر گمان کر سکتے ہیں کہ اس کو