آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 79
آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 79 کمالات اسلام میں تحریر فرماتے ہیں کہ: باب اول سوچنا چاہئے کہ کیا یہی ادب اور یہی ایمان اور عرفان ہے اور یہی محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس نقص اور تنزل کی حالت کو روا رکھا جائے کہ کو یا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے مدتوں تک علیحدہ ہو جاتا تھا اور تعوذ باللہ ان مدتوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انوار قدسیہ سے جو روح القدس کا پر توہ ہے محروم ہوتے تھے غضب کی بات ہے کہ عیسائی لوگ تو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یقینی اور قطعی طور پر یہ اعتقاد رکھیں ہے کہ روح القدس جب سے حضرت مسیح پر نازل ہوا کبھی ان سے جدا نہیں ہوا اور وہ ہمیشہ اور ہر دم روح القدس سے تائید یا فتہ تھے یہاں تک کہ خواب میں بھی ان سے روح القدس جدا نہیں ہوتا تھا اور ان کا روح القدس بھی آسمان پر ان کو کیلا اور مجور چھوڑ کر نہیں گیا اور نہ روح القدس کی روشنی ایک دم کیلئے بھی کبھی ان سے جدا ہوئی لیکن مسلمانوں کا یہ اعتقاد ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روح القدس آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا بھی ہو جاتا تھا اور اپنے دشمنوں کے سامنے بصراحت تمام یہ اقرار کریں کہ رُوح القدس کی دائی رفاقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عیسی کی طرح نصیب نہیں ہوئی۔اب سوچو کہ اس سے زیادہ تر اور کیا بے ادبی اور گستاخی ہوگی کہ آنحضرت صلعم کی صریح توہین کی جاتی ہے اور عیسائیوں کو اعتراض کرنے کیلئے موقع دیا جاتا ہے اس بات کو کون نہیں جانتا کہ روح القدس کا نزول نورانیت کا باعث اور اس کا جدا ہو جانا ظلمت اور تاریکی اور بدخیالی اور تفرقہ ایمان کا موجب ہوتا ہے خدا تعالی اسلام کو ایسے مسلمانوں کے شر سے بچاوے جو کلمہ گو کہلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی حملہ کر رہے ہیں۔عیسائی لوگ تو حواریوں کی نسبت بھی یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ بھی ان سے روح القدس جدا ہوتا تھا بلکہ ان کا تو یہ عقیدہ ہے کہ وہ لوگ روح القدس کا فیض دوسروں کو بھی دیتے تھے۔لیکن یہ لوگ مسلمان کہلا کرا اور مولوی نوٹ۔حضرت مسیح کی نسبت مسلمانوں کا بھی یہی اعتقاد ہے دیکھو تفسیر ابن جرير وابن كثير ومعالم وفتح البیان وکشاف تفسیر کبیر و حسینی و غیره بموقع تفسیر آعت وَايْنَهُ بِرُوح القدس (البقره: ۸۸) افسوس افسوس افسوس منه