آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 77 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 77

انحضرت پر ہونے والے اعتراضات کے جوابات باب اول آگ کی صورت میں۔پھر موسیٰ علیہ السلام کا شک اور خوف بھی ثابت ہے اور مسیح کا بھی کیونکہ شیطان کا ملنا اور مسیح کا اس کے پیچھے جانا تر ڈو اور شک پر ہی دلالت کرتا ہے اور بتا تا ہے کہ ان کے دل میں اس وقت تک الہی کلام پر وہ یقین اور وثوقی پیدا نہیں ہوا تھا جو بعد میں جا کر پیدا ہوا۔پھر سوال یہ ہے کہ جب کبوتر کی شکل میں روح القدس نازل ہوا تو اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ انجیل میں صرف اتنا لکھا ہے : " آسمان سے ایک آواز یہ کہتی آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے + میں خوش ہوں۔ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کونسا نیا علم بخشا گیا ہے یا کونسا معرفت کا نیا نکتہ تھا جو آپ پر نازل کیا گیا۔محض کسی آواز کا آجانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہوتی۔آواز تو ایک پاگل کو بھی آجاتی ہے۔یا جب موٹی کو اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ میں تیرے باپ کا خدا اور ابراہام کا خدا اور اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں، تو موسی کو اس سے کیا لطف آیا ہوگایا کونسا عرفان ان کو حاصل ہوا ہو گا۔کیا اس کلام کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کہہ سکتے تھے کہ مجھے اللہ تعالی کی طرف سے ایک ایسی بات بتائی گئی ہے جو پہلے میرے علم میں نہیں تھی۔یا عرفان کا ایک نیا باب میرے لئے کھول دیا گیا ہے۔یقیناً وہ ایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتے تھے۔اسی طرح حضرت مسیح پر اگر ایک کبوتری کی شکل میں روح القدس نازل ہو گیا اور آسمان سے یہ آواز آ گئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے تو کیا ہو گیا ؟ یہ محض ایک بیان ہے اس سے زیادہ ان الفاظ کی کوئی حقیقت نہیں۔نہ ان میں عرفان کی کوئی بات ہے نہ علم و حکمت کا کوئی نکتہ ہے۔۔تعلق باللہ کا کوئی رازان میں منکشف کیا گیا ہے اور نہ کوئی اور ایسی بات بیان کی گئی ہے جو علم اور معرفت کی زیادتی کے ساتھ تعلق رکھتی ہو۔پھر یہ بھی قابل غور بات ہے کہ حضرت مسیح نے کبوتر کی شکل میں روح القدس کے نازل ہونے کا جو نظارہ دیکھا اس کے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی نظارہ نہیں تھا بلکہ دماغ کی خرابی کا ایک کرشمہ تھا کیونکہ جن لوگوں کو وہم ہو جاتا ہے وہ بعض دفعہ معمولی معمولی باتوں سے ایسے نتائج اخذ کر لیتے ہیں جو کسی اور انسان کے واہمہ میں بھی نہیں آتے۔مولوی یا محمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے ان کے دماغ میں نقص تھا۔بعض دفعہ باتیں کرتے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ہاتھ کو حرکت دیتے تو مولوی یا رمحمد صاحب