آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات

Page 76 of 520

آنحضرت ﷺ پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات — Page 76

آنحضرت پیر ہونے والے اعتراضات کے جوابات 76 باب اول ہو کیونکہ لکھا ہے کہ تو خداوند اپنے خدا کو سجدہ کر اور اس اکیلے کی بندگی کرے۔(متی باب ۴ آیت ۱ تا ۱۰) دیکھو عیسائیوں کو تو رسول کریم ﷺ پر یہ اعتراض تھا کہ آپ نے وحی الہی کے متعلق شبہ کا اظہار کیا مگر یہاں یہ لکھا ہے کہ شیطان حضرت مسیح کو اپنے ساتھ لئے پھرا۔ہم یہ نہیں کہتے کہ واقعہ میں ایسا ہوا ہے ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ پر کامل یقین تھا تو انجیل کے بیان کے مطابق وہ شیطان کے پیچھے پیچھے کیوں بھاگے پھرتے تھے اور کیا وجہ ہے کہ جس طرف شیطان ان کی انگلی پکڑ کر لے جاتا اسی طرف وہ نہایت اطمینان کے ساتھ چلنا شروع کر دیتے؟ بیت المقدس میں لے جاتا تو وہاں چلے جاتے ہیں۔ہیکل کے کنگورے پر کھڑا کرتا ہے تو وہاں کھڑے ہو جاتے ہیں۔کو یا جس طرح کوئی بے بس ہوتا ہے شیطان کی ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔بہر حال عیسائیوں کو دوباتوں میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنی پڑے گی۔یا تو ان کو یہ مانا پڑے گا کہ یہ ایک ظاہری واقعہ ہے اور یا ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ ظاہری واقعہ نہیں بلکہ خواب ہے۔اگر اسے ظاہری واقعہ تسلیم کیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شیطان حضرت مسیح کے پاس آیا کیوں؟ کیا وہ خدا تعالی کے بیٹے کو دھوکا دے سکتا تھا ؟ اگر نہیں تو اس کا ظاہری صورت میں حضرت مسیح کے پاس آنا بالکل بے معنی بات تھی جس کی کوئی بھی تو جیہ نہیں ہو سکتی۔ہاں اگر اس واقعہ کو حضرت مسیح کی خواب قرار دے دیا جائے تو ایسا ہو سکتا ہے مگر اس صورت میں بھی یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کے دل میں یہ خیالات آنے شروع ہو گئے تھے کہ کیا مجھے شیطان کی طرف سے تو الہام نہیں ہوا۔حضرت مسیح کا رڈیا کی حالت میں شیطان کے پیچھے چلنا اور ا سے نہ دھتکارنا ان کے قلب کی اس حالت پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس کے شیطان ہونے پر یقین نہ رکھتے تھے اور اس وقت تک شیطانی اور رحمانی رویا میں فرق نہیں کر سکتے تھے۔غرض انجیل کی آیات سے یہ امر ظاہر ہے کہ یسوع کو ایک کبوتر ی کے نظارہ میں پہلا جلوہ ہوا۔جبکہ رسول کریم ﷺ کو ایک کامل القومی انسان کی شکل میں اور حضرت موسی علیہ السلام کو۔